Advertisement
پاکستان

دوسری ہائیکورٹ سے جج نہ لایا جائے، نہ چیف جسٹس بنایا جائے: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا خط 

اسلام آباد ہائی کورٹ سے ہی تین سینئرججزمیں سے چیف جسٹس بنایا جائے، ججزکے خط کا متن

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Feb 1st 2025, 12:21 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
دوسری ہائیکورٹ سے جج نہ لایا جائے، نہ چیف جسٹس بنایا جائے: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا خط 

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے صدر پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ دوسری ہائیکورٹ سے جج نہ لایا جائے اور نہ چیف جسٹس بنایا جائے۔
تفصیلات کتے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کےلیے دوسری ہائیکورٹ سے جج لانے کی ممکنہ کوشش کےمعاملے پرجسٹس محسن اختر کیانی سمیت دیگر مختلف ججزنے صدرپاکستان، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور دیگرہائیکورٹس کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دوسری ہائیکورٹ سے جج نہ لایا جائےنہ چیف جسٹس بنایا جائے۔
ججز کی جانب سے لکھے گئےخط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سلام آباد ہائیکورٹ سے ہی تین سینئر ججز میں سے چیف جسٹس بنایا جائے۔
عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ججز کی جانب سے خط میں کہا گیا ہے کہ دوسری ہائیکورٹ سے جج لانے کے لیےmeaningful consultation ضروری ہے۔
ججز کے خط میں کہا گیا کہ دوسری ہائیکورٹ سے جج لانے کےلیے بامعنی مشاورت ضروری ہے، دوسری ہائیکورٹ سے جج لانے کےلیے وجوہات دینا بھی ضروری ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی نسبت لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء کیسز دو لاکھ ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری سنیارٹی کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟
ججز کی جانب سے صدر پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان کو خط کی کاپی بھجوا دی گئی،اس کے علاوہ سندھ ہائیکورٹ،  لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھی کاپی بھجوا دی گئی ہے۔

Advertisement