Advertisement
پاکستان

حکومت کو متنازعہ پیکا ایکٹ پر صحافیوں کی تجاویز لینی چاہئیں ، مولانا فضل الرحمان

اس حکومت کو جو لائے وہی چلا رہے ہیں، میں سیاسی کارکن ہوں اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل پر یقین رکھتا ہوں،سربراہ جے یوآئی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Feb 1st 2025, 12:33 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
حکومت کو متنازعہ پیکا ایکٹ پر صحافیوں کی تجاویز لینی چاہئیں ، مولانا فضل الرحمان

گوجرنوالہ:جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کو متنازعہ پیکا ایکٹ پر صحافیوں کی تجاویز لینی چاہئیں تھیں۔
مولانا فضل الرحمان نےگوجرانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ اس حکومت کو جو لائے وہی چلا رہے ہیں، میں سیاسی کارکن ہوں اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل پر یقین رکھتا ہوں۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ،اگر وہ اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھتے تو ہم اس پر تبصرہ نہیں کریں گے،پی ٹی آئی اور ن لیگ دونوں کو معاملات طے کرنےکا اختیار نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے جو لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کا یہی مؤقف ہوتا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر تشریف لائے ہیں، اگر ان کا کوئی شخص خلاف بات کرتا ہے تو اس کا نوٹس انہی کو لینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیکا ایکٹ پر صحافیوں سے بات ہوئی ہے، ان کی بات میں وزن ہے، متنازع ایکٹ پر صحافیوں کی تجاویز لینی چاہئیں تھیں۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخو ا میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔خیبرپختونخوا کے مسائل کا پنجاب کو شائد احساس نہیں،سندھ میں ڈاکو راج ہے،سندھ میں راستے اور مسافر غیر محفوظ ہیں۔
حماس اور اسرائیل کے مابین سیز فائر معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا جانتی ہے 15 ماہ تک اسرائیل اور صہیونی قوتیں غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں پر آگ برساتے رہے،جنگ بندی کے معاہدہ میں فلسطین کو کامیابی ملی ہے، فسلطینیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ٹرمپ فلسطینیوں کو مختلف ممالک میں آباد کرنے کے بجائے اسرائیل کو فلسطین سے اٹھائیں۔

Advertisement