Advertisement
پاکستان

وزیراعظم کا "نشانِ پاکستان" لینے سے انکار

فوجی قیادت میں، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو "معرکۂ حق" کے دوران مؤثر حکمت عملی اور فرنٹ لائن قیادت پر ہلالِ جُرات دیا گیا

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 14th 2025, 7:16 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
وزیراعظم کا "نشانِ پاکستان" لینے سے انکار

 

یومِ آزادی کے موقع پر ایوانِ صدر اسلام آباد میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں صدرِ مملکت ڈاکٹر آصف علی زرداری نے سول اور عسکری قیادت کو قومی خدمات پر اعلیٰ اعزازات سے نوازا۔

ذرائع کے مطابق، سول و ملٹری ایوارڈز کمیٹی نے وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز "نشانِ پاکستان" کی سفارش کی تھی، تاہم وزیر اعظم نے ذاتی طور پر اپنا نام فہرست سے نکالنے کی ہدایت دی اور باقی تمام ناموں کی منظوری دے دی۔

تقریب میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف، اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کو نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی، احسن اقبال، شیری رحمان، فیصل سبزواری، مصدق ملک، حنا ربانی کھر، طارق فاطمی اور خرم دستگیر خان کو بھی مختلف اعلیٰ سول اعزازات سے سرفراز کیا گیا۔

فوجی قیادت میں، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو "معرکۂ حق" کے دوران مؤثر حکمت عملی اور فرنٹ لائن قیادت پر ہلالِ جُرات دیا گیا، جبکہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو ہلالِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

ادھر معروف صحافی انصار عباسی نے "معرکۂ حق ایوارڈ" قبول کرنے سے معذرت کر لی۔ انہوں نے کابینہ سیکریٹری کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ یہ اعزاز پوری قوم کا ہے، کیونکہ انہوں نے صرف اپنا پیشہ ورانہ فرض ادا کیا ہے، کوئی غیر معمولی کارنامہ انجام نہیں دیا۔

Advertisement