"معرکۂ حق” وہ اصطلاح ہے جو حالیہ بھارت-پاکستان تنازع کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ یہ کشیدگی 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد شروع ہوئی


وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی "آرمی راکٹ فورس کمانڈ” کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، یہ اقدام بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد دفاعی تیاریوں میں اضافے کا حصہ ہے، جس کے تحت آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے یہ اعلان بدھ کی شب اسلام آباد کے جناح سپورٹس اسٹیڈیم میں منعقدہ یوم آزادی اور "معرکۂ حق” کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نئی فورس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی، جو ہر سمت سے دشمن کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھے گی اور پاکستان کی روایتی جنگی طاقت کو مزید تقویت دے گی۔
"معرکۂ حق” وہ اصطلاح ہے جو حالیہ بھارت-پاکستان تنازع کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ یہ کشیدگی 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد شروع ہوئی، جس کے جواب میں پاکستان نے بھرپور کارروائی کی، اور 10 مئی کو جنگ بندی طے پائی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ بھارت بھول گیا تھا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ قوم کے حوصلے سے جیتی جاتی ہیں، اور اب اسے ایسی شکست کا سامنا کرنا پڑا جو یادگار سبق بن گئی ہے۔
وزیر اعظم نے "معرکۂ حق” کو پاکستان کی تاریخ میں ایک "نئے پاکستان” کی پیدائش قرار دیا اور چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر کو "قوم کا بیٹا” قرار دیتے ہوئے ان کی قیادت اور حکمت عملی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وفاقی و صوبائی وزراء، سفارتکار اور اعلیٰ عسکری قیادت شریک تھی۔ پاک فوج کے مختلف دستوں نے شاندار پریڈ کا مظاہرہ کیا، جبکہ ترکی اور آذربائیجان کے فوجی دستے بھی پریڈ میں شریک تھے۔ پاک فضائیہ کے فالکنز اسکواڈ نے فضائی کرتب پیش کیے۔
وزیراعظم نے "نشانِ پاکستان” لینے سے انکار کر دیا
وزیر اعظم نے خطاب میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے معماروں ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، اور دیگر سائنسدانوں و سیاستدانوں — کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے 1998 کے ایٹمی تجربات کے وقت وزیر اعظم نواز شریف کے جرات مندانہ فیصلے کو بھی سراہا۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان کا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ محض دفاعی مقاصد کے لیے ہے، نہ کہ جارحیت کے لیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے تمام سیاسی جماعتوں کو "میثاقِ استحکامِ پاکستان” پر متحد ہونے کی دعوت دی تاکہ قومی استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جا سکے۔

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی، خریداروں کے چہرے کھل اٹھے
- 4 days ago

مون سون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، محکمۂ صحت ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ سے الرٹ
- 4 days ago
پنجاب حکومت کا پرواز کارڈ اسکیم کے تحت اوورسیز روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز سے اشتراک
- 2 days ago

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ڈیٹا سینٹر سکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا
- 3 days ago
لیجنڈ گلوکارعطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا اپنی تدفین کے حوالے سے انکشاف
- 4 days ago
جنرل سید عامر نےکمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈکا منصب سنبھال لیا، فیلڈ مارشل سے بھی ملاقات
- 11 hours ago

پاکستان میں مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود کتنا ہو گیا؟
- 16 hours ago

اداکارہ و ماڈل روما مائیکل نے جیون ساتھی چن لیا
- 2 days ago
وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو ''فور اسٹار جنرل''کے عہدے پر ترقی دینے کااعلان
- 4 days ago
آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ جاری
- 17 hours ago
29 جولائی کوعام تعطیل کا سرکاری اعلان کر دیا گیا
- 17 hours ago

پاکستان پیپلز پارٹی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی، گورنر پنجاب
- 10 hours ago

