Advertisement
پاکستان

بھارت کا سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

بھارتی وزارت خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عالمی عدالت کو سندھ طاس معاہدے پر کوئی فیصلہ سنانے کا اختیار حاصل نہیں، اور بھارت نے نہ ہی عدالت کی حیثیت کو کبھی تسلیم کیا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 14th 2025, 10:33 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بھارت کا سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

 

بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کے پاکستان کے حق میں سنائے گئے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ بھارت مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو معاہدے کے مطابق بلاروک ٹوک فراہم کرنے کا پابند ہے، اور بھارت کے ہائیڈرو پاور منصوبے بھی معاہدے کی شرائط سے مشروط ہوں گے۔

تاہم، بھارتی وزارت خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عالمی عدالت کو سندھ طاس معاہدے پر کوئی فیصلہ سنانے کا اختیار حاصل نہیں، اور بھارت نے نہ ہی عدالت کی حیثیت کو کبھی تسلیم کیا ہے۔

فیصلے کی تفصیلات

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی عمومی تشریح سے متعلق فیصلہ 8 اگست 2025 کو سنایا، جو بعد ازاں عدالت کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ عدالت نے قرار دیا ہے کہ:

  • بھارت، مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو بلا تعطل فراہم کرے؛

  • ہائیڈرو پاور منصوبے صرف معاہدے میں طے شدہ شرائط کے تحت ہی استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں؛

  • عدالت کے فیصلے حتمی اور فریقین پر لازم ہیں۔

پس منظر

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینکاری ادارے ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، جس کے تحت مشرقی دریاؤں (ستلج، بیاس، راوی) کا پانی بھارت کو، جب کہ مغربی دریاؤں (جہلم، چناب، سندھ) کا پانی پاکستان کو دیا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے متعدد ہائیڈرو پاور منصوبوں پر پاکستان نے اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں چلا گیا۔

Advertisement
Advertisement