Advertisement
پاکستان

سینئر صحافی خاور حسین کی پراسرار موت: تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق، ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کی سربراہی میں قائم اس تین رکنی کمیٹی میں ڈی آئی جی عرفان بلوچ اور ایس پی عابد بلوچ بھی شامل ہیں

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 17th 2025, 9:46 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سینئر صحافی خاور حسین کی پراسرار موت: تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم

سینئر صحافی خاور حسین کی پراسرار موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق، ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کی سربراہی میں قائم اس تین رکنی کمیٹی میں ڈی آئی جی عرفان بلوچ اور ایس پی عابد بلوچ بھی شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر سات روز میں رپورٹ پیش کرے۔

واقعے کی تفصیلات:

ڈی آئی جی فیصل بشیر میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خاور حسین سانگھڑ میں ایک ہوٹل کی پارکنگ میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق، وہ اکیلے تھے اور دو بار گاڑی سے اُتر کر ہوٹل کا واش روم استعمال کرنے گئے۔ ایک موقع پر انہوں نے ہوٹل کے منیجر سے واش روم کے بارے میں دریافت کیا، اور بعد ازاں چوکیدار سے بھی یہی سوال کیا۔

فیصل بشیر میمن کے مطابق، جب چوکیدار دوبارہ گاڑی کے پاس پہنچا تو اس نے خاور حسین کی گولی لگی لاش دیکھی۔

"خاور نے ذاتی تحفظ کے لیے پستول رکھا ہوا تھا۔ تاہم، ہم ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے، تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔"

خاور حسین نے مئی میں اپنے والدین کو امریکا منتقل کیا تھا۔ ان کے بہنوئی زبیر علی کے مطابق، خاور ایک مجلس میں شرکت کے لیے سانگھڑ آئے تھے جو ان کے بہنوئی کے گھر منعقد ہو رہی تھی، تاہم وہ مجلس میں نہیں پہنچ سکے۔

زبیر علی نے بتایا "رات کو ایک دوست نے اطلاع دی کہ ہوٹل کی پارکنگ میں ایک کالے رنگ کی گاڑی میں لاش موجود ہے، شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ خاور حسین ہیں۔

خاور حسین کی اچانک موت نے صحافتی برادری کو صدمے میں ڈال دیا ہے۔ وہ بیوہ اور دو کمسن بچوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے بھائی اور والدین امریکا میں مقیم ہیں، اور تدفین کا اعلان ان کے وطن واپس آنے کے بعد کیا جائے گا۔

Advertisement