راوی اور ستلج کے مختلف مقامات پر فلڈ الرٹ جاری،چناب میں ہیڈ قادر آباد کے قریب دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا
دریائے چناب پر جھنگ میں تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے


راوی اور ستلج کے مختلف مقامات پر فلڈ الرٹ جاری،چناب میں ہیڈ قادر آباد کے قریب دھماکے سے شگاف ڈال دیا گیا
بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے چناب میں سیلابی صورت حال ہے اور ضلعی انتظامیہ نے گوجرانوالہ میں ہیڈ قادرآباد کے قریب شگاف لگانے کے لیے ایک چھوٹا دھماکا کیا ہے۔
دریائے چناب پر جھنگ میں تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد 63 ہزار 34 کیوسک اور اخراج 51 ہزار 834 کیوسک ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے ضلع بھر میں 412 دیہات زیرآب آنے کا خدشہ ہے، دریائی علاقوں کے رہائشیوں کو مویشیوں سمیت نقل مکانی کی ہدایت کر دی گئی ہیں اور اس حوالے سے مساجد میں اعلانات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنرعلی اکبر بھنڈر کا کہنا ہے ضلعی انتظامیہ نے 18 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جبکہ ریسکیو 1122 کی جانب سے بھی 27 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں ۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 38 سال بعد دریاؤں میں اتنا پانی آیا ہے، آج رات شاہدرہ سے بڑا سیلابی ریلا گزرا ہے۔ دریائے راوی میں 1988 کے بعد اتنی بڑی مقدار میں پانی آیا ہے، راوی کے بینک میں موجود لوگوں سے گزارش ہے کہ علاقوں کو خالی کر دیں، آئندہ دو سے تین دن میں دریائے راوی سےبڑا سیلابی ریلہ گزرے گا۔
آج رات شاہدرہ کے مقام سے بڑا ریلا گزرے گا، رات 10 سے 12 بجے کے درمیان سیلابی ریلہ گزرے گا، یہ چیلنج ضرور ہوگا لیکن تمام تر اقدامات پورے کر لیے ہیں، امید ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوگا۔ دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 40 ہزارکیوسک ہے،
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ گزشتہ رات دریائے چناب اور راوی میں اونے درجے کا سیلاب آیا، خانکی ہیڈورکس سے اس وقت ریلا گزر رہا ہے، دریاے چناب میں ایک دہائی بعد اونچے درجےکا سیلاب آیا۔ سیلاب سے پنجاب میں بروقت اقدامات کی وجہ سے جانی نقصان نہیں ہوا، سیلاب جب تک رحیم یار خان سے نہیں گزرے گا پنجاب کے لیے چلینج رہےگا لیکن سیلاب سے اسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے۔
دوسری جانب بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے پاکستان کو سیلاب سے متعلق نئی معلومات موصول ہوئی ہیں، نئی معلومات پر دفتر انڈس واٹر کمشنر نے فلڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔
دفتر انڈس واٹر کمشنر کا بتانا ہے بھارتی ہائی کمیشن نے اطلاع دی ہے کہ دریائے ستلج میں ہیڈ ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں میں اونچے درجے کا سیلاب ہوگا۔ راوی میں مادھو پور زیریں اور دریائے چناب میں اکھنور میں اونچے درجے کا سیلاب ہو گا۔
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق دریائےچناب، راوی اور ستلج میں غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے۔
این ای او سی کے مطابق چناب میں مرالہ پر7 لاکھ 69 ہزار 481 کیوسک کا انتہائی اونچا سیلابی ریلا مزید آگے بڑھ سکتا ہے، چناب میں خانکی پر7 لاکھ5 ہزار 225کیوسک کا انتہائی اونچے سیلابی ریلےکا بہاؤ کم ہو رہا ہے۔
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کا بتانا ہے کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر 72 ہزار 900 کیوسک کا بہاؤ جاری ہے، سیلابی ریلے کی وجہ سےشاہدرہ، پارک ویو، موٹر وے 2 کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کاخطرہ ہے۔
این ای او سی کے مطابق ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر2.45 لاکھ کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلابرقرار ہے جبکہ ستلج میں ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ 355 کیوسک کا سیلابی ریلا برقرارہے۔
جعلی دستاویزات بنا کر مالک کو پھنسانے کی کوشش، مرکزی ملزم گرفتار
- a day ago

جموں وکشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم
- 2 days ago
براڈ پیک حادثے میں ہلاک مزید 5 کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو پہنچا دی گئیں
- a day ago
نئےبیلسٹک میزائل تجربے نے ہلچل مچا دی؟ وجہ بھی سامنے آگئی
- a day ago
عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر اتفاق ہو گیا، اعلان جلد متوقع: ایران
- 2 days ago

پاکیتان میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بھی بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 3 hours ago

وزیر اعظم شہباز شریف دورہ سعودی عرب پر روانہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ہمراہ
- a day ago
ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائیگا، سعودیہ، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوگیا
- an hour ago
اسکول میں فائرنگ سے ٹیچر سمیت 6 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کرلی
- 3 hours ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر، صومالی وزیر دفاع کا دفاعی روابط بڑھانے پر اتفاق
- a day ago

پاکستان میں سونے کی قیمت کو لگ گئے پر، پھر بڑا اضافہ
- a day ago

سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں دو مختلف کارروائیو ں میں 10خوارج کو ہلاک کردیا
- 2 hours ago


