ڈھاکا: عثمان ہادی کی نماز جنازہ ادا،عبوری حکومت کےسربراہ سمیت ہزاروں افراد کی شرکت
عثمان ہادی گزشتہ برس طلبہ احتجاج کے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے، جس کے نتیجے میں سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت برطرف ہوئی تھی،رپورٹ


ڈھاکا: بنگلا دیش کے 2024 کے طلبہ احتجاج کے رہنما شریف عثمان ہادی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے جس میں عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق نماز جنازہ سے قبل ہی بڑی تعداد میں لوگ پارلیمنٹ کی عمارت کے علاقے میں جمع ہونا شروع ہو گئےتھے، اس سے قبل صبح سے ہی پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے والی سڑک پر ٹریفک روک دی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق نوجوان رہنماعثمان ہادی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مشاورتی کونسل کے اراکین، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں پہنچے تھے۔
پارلیمنٹ کی عمارت اور آس پاس کی سڑکوں پر فوج اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) سمیت قانون نافذ کرنے والے افسران کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا تھا۔ پولیس نے چوکیاں قائم کر کے آنے والوں کی تلاشی لی۔
عثمان ہادی کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے احاطے میں قومی شاعر قاضی نذر الاسلام کے مقبرے میں دفن کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ عثمان ہادی گزشتہ برس طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے، جس کے نتیجے میں سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت برطرف ہوئی تھی۔

وہ بنگلہ دیش میں ہونے والے 12 فروری کے عام انتخابات کے لیے بھی امیدوار تھے,12 دسمبر کو ڈھاکا میں انتخابی سرگرمی کے دوران ہادی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ وہ آٹو رکشے میں سفر کر رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے قریب آ کر ان کے سر پر گولیاں مار دیں۔


واقعے کے بعد انہیں فوری طور پر ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے دماغی تنوں کو شدید نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی تھی۔
مقامی ڈاکٹروں نے بتایا کہ ہادی کا دماغ شدید متاثر ہوا تھا، جس کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے 15 دسمبر کو سنگاپور جنرل ہسپتال کے نیوروسرجیکل آئی سی یو میں داخل کیا گیا۔
یاد رہے کہ ہادی 32 سال کے تھے اور طلبہ احتجاجی گروپ انقلاب منچہ کے سینئر رہنما تھے۔ وہ بھارت کے سخت ناقد بھی رہے جو سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے قریبی اتحادی رہ چکے ہیں، اور حسینہ اب خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔

آپریشن غضب للحق کے دوران 796 شدت پسند ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہوئے، عطاء تارڑ
- 4 hours ago

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرینی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو
- a day ago

مسافر بسوں کو 1 لاکھ اور منی بس و ویگنوں کو 40 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے،شہباز شریف
- 8 hours ago

خیبرپختونخوا: حالیہ بارشوں سے45 افراد جاںبحق اور 442 گھروںکو نقصان پہنچا، پی ڈی ایم اے
- 6 hours ago

امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ، حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، سہیل آفریدی
- 3 hours ago

منگل کو ایران میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا،ٹرمپ کی دھمکی
- 3 hours ago

ایران میں گرنے والے جہاز کے دوسرے پائلٹ کو بھی ریسکیو کر لیا گیا ہے،ٹرمپ کا دعویٰ
- 9 hours ago

صدر مملکت اور وزیر اعظم کی پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری کو ایسٹر کی مبارکباد
- 9 hours ago

وزیر داخلہ محسن نقوی کی رائیونڈ عالمی تبلیغی مرکز آمد، بھارت اور بنگلہ دیش سےآئے اکابرین سے ملاقات
- 6 hours ago

پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری آج ایسٹر کا تہوار مذہبی جوش و خروش سے منا رہی ہے
- 9 hours ago

اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ،خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
- 10 hours ago

10 دن کا دیاگیا وقت ختم ہو رہا ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کی دھمکی
- a day ago











