دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے آنے والا ردعمل دراصل پاکستان کے اس موقف کی توثیق کرتا ہے کہ ملک میں عدم استحکام کی سرگرمیوں میں بیرونی عناصر ملوث ہیں
اسلام آباد :دفترِ خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ پاکستان کی جانب سے ہمسایہ ملک افغانستان میں حالیہ کارروائیاں “پاکستانی شہریوں کے تحفظ” کو یقینی بنانے اور “ممکنہ دہشت گرد حملوں” کو روکنے کے لیے کی گئیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے یہ بیان اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں دیا۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور کیمپوں کو رات گئے نشانہ بنایا۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق فضائی حملوں میں “80 سے زائد” دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ کارروائیاں گزشتہ سال اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے آغاز کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سب سے بڑی فوجی مداخلت قرار دی جا رہی ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے آنے والا ردعمل دراصل پاکستان کے اس موقف کی توثیق کرتا ہے کہ ملک میں عدم استحکام کی سرگرمیوں میں بیرونی عناصر ملوث ہیں۔
جمعرات یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان نے خطے میں امن، مکالمے اور سفارت کاری کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے قومی مفادات اور بین الاقوامی تنازعات پر پاکستان کے اصولی موقف کو بھی دہرایا۔
ترجمان نے یاد دلایا کہ رواں ماہ سمجھوتہ ایکسپریس بم حملہ کی 19 ویں برسی منائی جا رہی ہے جس میں 70 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ملوث افراد میں سے ایک آسید آنند نے سرعام اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا جبکہ بھارتی کرنل سری کانت پروہت نے بھی اپنے کردار کا اقرار کیا تھا تاہم سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے چاروں ملزمان تاحال آزاد ہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت اس حملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے بھارتی وزارت خارجہ کے حالیہ بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے حالیہ دورہ قطر کا بھی ذکر کیا، مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا اور سمجھوتہ ایکسپریس حملے کی برسی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے امیر قطرکی دعوت پر 23 سے 24 فروری تک دوحہ کا دورہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا اور سیاسی روابط کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
ترجمان نے کہا کہ امیرِ قطر نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مزید سٹریٹجک سطح تک وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ دونوں رہنمائوں نے علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور تنازعات کے پرامن حل، مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ امیر قطر نے وزیر اعظم کی جانب سے اسی سال پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار 26 سے 28 فروری تک سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں وہ جدہ میں او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیرمعمولی وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے، یہ ہنگامی اجلاس اسرائیلی قابض حکام کے ان اقدامات پر غور کے لیے بلایا گیا ہے جنہیں پاکستان نے غیر قانونی قرار دیا ہے جن میں یہودی بستیوں کی توسیع اور مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی تسلط کے اقدامات شامل ہیں۔
وزارتی اجلاس میں سینیٹر محمد اسحاق ڈار مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو نام نہاد ’’ریاستی اراضی‘‘ میں تبدیل کرنے کے اسرائیلی اقدامات پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔ اجلاس کے موقع پر ان کی او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے او آئی سی کے رکن ممالک اور دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ بیانات میں حالیہ اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔