پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز 2.5 لاکھ تک پہنچ گئے، 80 فیصد مریض علاج سے محروم ،بچوں میں پھیلاؤ تشویشناک
پنجاب میں 50 فیصد مریض، سندھ میں بچے سب سے زیادہ متاثر۔ 2024 میں 48 ہزار نئے کیسز، ہر ماہ 900 تک نئے مریض رجسٹرڈ ہیں،رپورٹ


لاہور:(ذوالقرنین رانا) پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں 2 لاکھ 10 ہزار سے 2 لاکھ 50 ہزار افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد 3 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ سرکاری طور پر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد صرف 76 ہزار ہے۔ یعنی 70 فیصد سے زائد مریض ابھی تک صحت کے نظام سے باہر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈز کے صرف 16 سے 21 فیصد مریض ہی باقاعدہ علاج حاصل کر رہے ہیں۔
2024 میں 48 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور 2026 میں بھی یہی رفتار برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ اس وقت ہر ماہ 700 سے 900 ایڈز کے نئے مریض رجسٹر ہو رہے ہیں۔
صرف جنوری تا مارچ 2026 میں پنجاب میں 97 ہزار سے زائد افراد کی اسکریننگ کی گئی۔ حکام کے مطابق اپریل 2026 میں کیسز میں اضافہ کسی آؤٹ بریک کی وجہ سے نہیں بلکہ اسکریننگ بڑھنے کا نتیجہ ہے۔ سرجری سے پہلے ایچ آئی وی ٹیسٹ لازمی قرار دینے سے بھی مزید کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک کے 50 فیصد ایچ آئی وی مریض پنجاب میں موجود ہیں۔ صوبے میں ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ 48 علاج مراکز فعال ہیں اور رجسٹرڈ بالغ مریضوں کی تعداد 35 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔،تونسہ اور گردونواح میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں 331 بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے ہیں۔
سندھ کو بچوں کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوری تا مارچ 2026 میں سندھ میں 894 نئے کیسز سامنے آئے جن میں 329 بچے شامل تھے۔
کراچی میں ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی کہ 2 ہزار مریضوں کو دوبارہ علاج کے نظام میں شامل کر لیا گیا ہے۔
بلوچستان میں بھی ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں مریضوں کا تخمینہ 7 ہزار سے 10 ہزار لگایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کی سب سے بڑی وجہ انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد ہیں۔ اس کے علاوہ خون کی غیر محفوظ منتقلی سے بھی 2 سے 3 فیصد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں خون کی اسکریننگ 100 فیصد کرنے کا ہدف مقرر ہونے کا امکان ہے۔ پنجاب میں اس وقت سب سے بڑا علاج مراکز کا نیٹ ورک موجود ہے، جبکہ سندھ میں بچوں کی صورتحال پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ایچ آئی وی اب قابل علاج مرض ہے۔ بروقت تشخیص اور ART ادویات کے باقاعدہ استعمال سے مریض نارمل زندگی گزار سکتا ہے اور وائرس دوسروں کو منتقل ہونے کا خطرہ بھی نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔

آرمی چیف کا روس کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ
- 4 دن قبل

پشاور: نجی اسکول کی چھت گرنے سے30 بچے, دوخاتون ٹیچر ہلاک
- 4 دن قبل

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کردی گئی
- 3 دن قبل

ایکشن، رومانس اور سسپنس سے بھرپور فلم ’’مینگو جٹ‘‘ ریلیز، پریمیئر میں شوبز ستاروں کی شرکت
- 2 دن قبل

امریکا: 16 سالہ لڑکےکی اسکول میں فائرنگ،3 بچے اورایک استاد ہلاک
- 2 دن قبل

پنجاب یونیورسٹی لاہور میں لالی وڈ کی نئی فلم 'پشمینہ' کی اوپپنگ تقریب
- 3 دن قبل
ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ میں ایک بار پھر توسیع
- 3 دن قبل

اے آئی بے لگام: انتھروپک کمپنی نے اے آئی سے لاحق ایک اور بڑے خطرے سے آگاہ کر دیا
- 4 دن قبل

ایک دن کے اضافے کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزارں روپے کی کمی
- 4 دن قبل

دفترخارجہ نے بھارتی وزیردفاع کے پاکستان کیخلاف اشتعال انگیز بیان کو مسترد کر دیا
- 2 دن قبل

وزیر خزانہ اور فچ ریٹنگز کے نمائندوں کا پاکستان کی معاشی کارکردگی پر تبادلہ خیال
- 2 دن قبل

مکہ مکرمہ: پاکستانی شہری کو ہیروئن اسمگل کرنےکے جرم میں سزائے موت دے دی گئی
- 4 دن قبل






