جی این این سوشل

جی این این میں ویڈیو ڈیسک آپ کو روزانہ کی تازہ ترین سرخیاں ، شوز ، پروگرام ، ایونٹس اور بہت کچھ فراہم کرے گا جب آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان

صدر مملکت کا چین کے سابق صدر جیانگ ژیمن کے انتقال پر اظہار تعزیت

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چین کے سابق صدر جیانگ ژیمن کے انتقال پر عوامی جمہوریہ چین کی قیادت اور عوام سے اپنی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

Published by Asma Rafi

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری تعزیتی بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ چین کے سابق صدر جیانگ ژیمن ایک ممتاز مدبر تھے  جنہوں نے مسلسل اقتصادی اصلاحات کے ذریعے چین کو تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن کیا  اور ملک میں معیار زندگی نمایاں طور پر بلند کیا۔ 

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سابق چینی صدر جیانگ ژیمن کی بصیرت نے پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور عوام کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ چین کے آنجہانی سابق صدر کو ان کی ملک کے لیے ان اعلی خدمات اور کوششوں کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جن کی بدولت چین آج دنیا کی ایک عظیم معاشی قوت کے طور ایستادہ ہے ۔

 صدر مملکت نے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں ہم چین کے عوام کے ساتھ ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عمران خان سے ملاقات کے بعد مونس الٰہی نے اہم ٹوئٹ کردی

وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور مونس الٰہی نے عمران خان کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی، ذرائع کاکہناہے کہ عمران خان کل پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان سے ملاقات کریں گے ۔

Published by Muhammad Akram

پر شائع ہوا

کی طرف سے

لاہور: مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الٰہی نے کہاہے کہ عمران خان کو ملاقات میں یقین دہانی کرادی وزارت اعلیٰ ان کی ملکیت ہے ،عمران خان جب چاہیں گے اسمبلی تحلیل ہو جائے گی .

قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے زمان پارک میں ملاقات کی ، ملاقات میں پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے آئینی و قانونی پہلوﺅں کا جائزہ لیاگیا،دونوں رہنماﺅں نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق اپوزیشن کی حکمت عملی پر بھی گفتگوکی۔

پرویز الٰہی نے اسمبلی تحلیل کے معاملے پر تجاویز عمران خان کے سامنے رکھ دیں ، وزیراعلیٰ پنجاب کاکہناتھا کہ عمران خان کے اسمبلیوں سے استعفے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں ، مستعفی ہونے پر ملک کو عام انتخابات کی طرف جانا چاہئے ۔

دونوں رہنماﺅں میں اسمبلی تحلیل کرنے سے قبل آئینی آپشنز اور پی ڈی ایم کی حکمت عملی پر بھی گفتگوہوئی، پرویز الٰہی نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے مطلوبہ ارکان کی اکثریت موجود نہیں ، پی ڈی ایم صرف شور کر رہی ہے ، ایوان میں شکست دیں گے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور مونس الٰہی نے عمران خان کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی، ذرائع کاکہناہے کہ عمران خان کل پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان سے ملاقات کریں گے ۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عمران خان کی معافی سے مطمئن ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ کاروائی کو آگے چلایا جائے

عمران خان کی معافی اور جج کی عدالت میں پیشی سے ان کی نیک نیتی ظاہر ہوتی ہے، شوکاز نوٹس واپس لے کر کیس سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ

Published by Muhammad Akram

پر شائع ہوا

کی طرف سے

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں 16صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ دیا۔ اے آروائی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں 16صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ دیا۔ 

جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس بابرستار نے فیصلے میں اضافی نوٹس تحریر کیئے۔ سابق وزیراعظم اور سیاسی لیڈر سے ایسی زبان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ عمران خان کے الفاظ اور لہجہ مناسب نہیں تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان کے رویے ، معافی اور جج کی عدالت میں پیشی سے ان کی نیک نیتی ظاہر ہوتی ہے۔ عمران خان کی معافی سے مطمئن ہیں کوئی وجہ نہیں کہ کاروائی کو آگے چلایا جائے۔ عمران خان سے شوکاز نوٹس واپس لے کر کیس سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔

یاد رہے 24 نومبر2022ء کو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں حکومتی جواب الجواب عدالت عظمی میں بھی جمع کروا دیا ہے۔ جمع کروائے گئے جواب میں عمران خان کی طرف سے موقف اپنایا گیا ہے کہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری پہلے ہی اپنے جواب میں مجھے اطلاع کرنے کے حوالے سے معذوری ظاہر کرچکے ہیں،کیس کے اندر واحد نقطہ یہی ہے کیا مجھے عدالتی احکامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں، بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی مجھ سے ملاقات کروانے کے عدالتی احکامات کی انتظامیہ نے واضح طور پر خلاف ورزی کی گی،چوبیس مئی سے پنجاب اور اسلام آباد میں ہونے والے تشدد کی وجہ سے شدید دباو میں تھے،

جمیرز کی وجہ سے رابطہ نہ ہونے کا ابھی تک دعوی نہیں کیا،پہلے جواب میں جیمرز کی موجودگی میں رابطہ کے عمل کو غیر حقیقی لکھا ہے،الیکٹرانک میڈیا پر میری سیاسی سرگرمیوں میں پابندی کے باعث سوشل میڈیا کا استعمال لازمی تھا،سوشل میڈیا سرگرمیاں مختلف جہگوں پر مختلف اکاوئنٹس سے کی جارہی تھیں،مجھے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے میرے اور سپورٹرز کے اجتماع کے آئینی حق کو تسلیم کرلیاہے،

ڈی چوک جانے کا فیصلہ حکومتی تشدد کے نتیجہ میں کیا تھا، ڈی چوک پر جانے کا فیصلہ سپریم کورٹ فیصلے سے پہلے کر چکا تھا، وزیراعلی خیبر پختونخواہ کاروان کے ہمراہ جیمرز چلانے کی دستاویزات عدالت میں جمع کروانیکی اجازت چاہتا ہوں، میرے جواب اور دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll