کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون سےمتعلق ایسے شواہد موجود ہیں جن سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اس وائرس سے پھیپھڑوں کی بجائے گلے کے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔


سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ بظاہر اومیکرون قسم بہت زیادہ متعدی ہے مگر کورونا کی دیگر اقسام کے مقابلے میں کم جان لیوا ہے۔
یہ عندیہ حالیہ 6 تحقیقی رپورٹس میں سامنے آیا جن میں سے 4 رپورٹس 25 دسمبر کے بعد پیش کی گئی اور ان سب میں دریافت ہوا کہ اومیکرون سے مریضوں کے پھیپھڑوں کو اس طرح نقصان نہیں پہنچتا جس طرح ڈیلٹا اور وائرس کی دیگر اقسام پہنچاتی ہیں۔
یہ سب تحقیقی رپورٹس اب تک کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی مگر لندن کالج یونیورسٹی کے وائرلوجی پروفیسر ڈینان پلائے نے بتایا کہ اومیکرون میں موجود تمام میوٹیشنز سابقہ اقسام سے مختلف ہیں جس کے نیتجے میں اس کی مختلف خلیات کو متاثر کرنے کی صلاحیت تبدیل ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ یہ نئی قسم نظام تنفس کی نالی کے اوپری حصے یعنی حلق کے خلیات کو زیادہ متاثر کرتی ہے اور پھیپھڑوں کے مقابلے میں وہاں اپنی نقول زیادہ تیزی سے بناتی ہے۔ یہ سب ابتدائی ہیں مگر سب تحقیقی رپورٹس میں اسی بارے میں توجہ دلائی گئی ہے۔
اگر وائرس اپنی زیادہ نقول حلق میں بناتا ہے تو اس کے نتیجے میں وہ زیادہ متعدی ہوسکتا ہے جس سے اومیکرون کے بہت تیزی سے پھیلنے کی ممکنہ وضاحت بھی ہوتی ہے۔
اس کے مقابلے میں پھیپھڑوں کے ٹشوز کو زیادہ بہتر طریقے سے متاثر کرنے والا وائرس کم متعدی مگر زیادہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
لیور پول یونیورسٹی کی ایک تحقیق 26 دسمبر کو جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا کہ اومیکرون سے چوہوں میں بیماری کی شدت بہت زیادہ نہیں تھی۔
اس تحقیق میں چوہوں کو اومیکرون سے متاثر کیا گیا تو ان کا جسمانی وزن کم ہوگیا مگر وائرل لوڈ کم تھا جبکہ نمونیا کی شدت بھی کم تھی۔
تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ معمے کا ایک ٹکڑا ہے، یعنی جانوروں کے ماڈل سے عندیہ ملتا ہے کہ ڈیلٹا اور اصل وائرس کے مقابلے میں اومیکرون سے متاثر ہونے پر بیماری کی شدت زیادہ نہیں ہوتی، وہ تیزی سے کلیئر ہوتی ہے اور چوہے بہت تیزی سے ریکور ہوئے۔
اسی طرح دوسری تحقیق بیلجیئم کی لیووین یونیورسٹی کی Neyts Lab کی تھی جس میں بھی اسی طرح کے نتائج جانوروں میں دریافت ہوئے یعنی وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں پھیپھڑوں میں کم وائرل لوڈ۔
محققین نے بتایا کہ ممکنہ طور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نیا وائرس جانوروں کی بجائے انسانوں کو زیادہ بہتر طریقے سے متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نظام تنفس کی نالی کے اوپری حصے کو ہدف بناتا ہے یا اس سے ہونے والی بیماری کی شدت ہی دیگر اقسام کے مقابلے میں کم ہے۔
امریکا کے محققین کی جانب سے جریدے نیچر میں جمع کرائی گئی ایک پری پرنٹ تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا کہ اومیکرون سے متاثر ہونے پر چوہوں کا جسمانی وزن کم ہوگیا مگر پھیپھڑوں میں وائرل لوڈ کم تھا۔
یونیورسٹی آف گلاسگو کے سینٹر فار وائرس ریسرچ کی تحقیق میں بھی ایسے شواہد دریافت ہوئے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ اومیکرون نے جسم میں داخل ہونے کا طریقہ بدل لیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اومیکرون ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد کی مدافعت پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھنے والی قسم ہے مگر بوسٹر ڈز سے مدافعت میں جزوی بحالی ممکن ہے۔
اس سے قبل ہانگ کانگ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا تھا کہ پھیپھڑوں میں اومیکرون سے ہونے والی بیماری شدت دیگر اقسام کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں ویکسنیشن کرانے کے بعد اومیکرون سے متاثر ہونے والے مریضوں کے خون کے نمونوں کی جانچ پڑتال میں دریافت ہوا کہ یہ نئی قسم ویکسینز سے بننے والی مدافعت پر حملہ آور ہوسکتی ہے مگر پھیپھڑوں کے خلیات میں داخل ہونے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتی۔محققین نے بتایا کہ یہ مانا جاتا ہے کہ پھیپھڑوں کے ٹشوز میں گہرائی میں بیماری کے پہنچنے کے نتیجے میں زیادہ سنگین بیماری کا سامنا ہوتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ مانا جاتا ہے کہ پھیپھڑوں کے ٹشوز میں گہرائی میں بیماری کے پہنچنے کے نتیجے میں زیادہ سنگین بیماری کا سامنا ہوتا ہے۔
ڈیلٹا میں موجود میوٹیشنز نے اسے دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے پھیپھڑوں کے خلیات میں داخل ہونے کا موقع ملا۔
اس کے مقابلے میں اومیکرون کے اسپائیک پروٹین کافی مختلف ہے اور لیبارٹری ٹیسٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اومیکرون ڈیلٹا کے مقابلے میں پھیپھڑوں کو زیادہ بری طرح متاثر نہیں کرسکتا۔
درحقیقت امیکرون سانس کے خلیات کو زیادہ متاثر کرتا ہے اور اسی وجہ سے ممکنہ طور پر مریضوں میں بیماری کی علامات کی شدت معمولی ہوتی ہے۔
حقیقی دنیا کا ڈیٹا اس دریافت کو سپورٹ کرتا ہے اور ڈیلٹا قسم کے مقابلے میں اومیکرون سے متاثر بہت کم افراد کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پڑی ہے۔

ایشین گیمز ہاکی:ملائیشیا نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے میں ہرا دیا
- 2 گھنٹے قبل
وزارت اطلاعات نےافغان وزارتِ دفاع کا اسپن بولدک کے قریب پاکستانی چوکی تباہ کرنے کا دعویٰ من گھڑت قرار دیا
- ایک دن قبل

پاکستان: مسلسل کمی کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ
- ایک دن قبل

'ہم مشہور ہورہے ہیں تو آپ کو کیا تکلیف ہے'، اداکار گوندا کا ردعمل
- ایک دن قبل
حوثی حملے: سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ کے فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب
- ایک دن قبل

ایشین گیمز: اسکواش ایونٹ میں پاکستان کے عاصم اور مہوش علی کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے
- 2 دن قبل

وزیراعظم کا اقوام متحدہ سےخطاب امتِ مسلمہ، امن پسند دنیا کے جذبات کی آواز ہے: اشرفی
- 10 گھنٹے قبل

شازیہ رضوان کا شیخوپورہ تھیٹرز کا اچانک دورہ، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی
- 6 گھنٹے قبل

ڈی آئی خان: چیک پوسٹ کے قریب دھماکا،11 افراد ہلاک، متعدد زخمی
- 5 گھنٹے قبل

وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی کشیدگی کے حل کیلئے مکالمے، سفارتکاری کی اہمیت پر زور
- ایک دن قبل

پاک بحریہ کی بحیرہ عرب میں کارروائی،2,800 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط
- 6 گھنٹے قبل

رباط میں یومِ دفاع و شہدا کی تقریب، مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین
- 7 گھنٹے قبل










