اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کاکہنا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا ، معاشرے میں جب تک انصاف نہیں ہو گا خوشحالی نہیں آئے گی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں فوجداری قانون میں اصلاحات سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ باہر ممالک کے لیگل سسٹم ٹیکنالوجی کی مدد سے بہتر ہوتے رہے جبکہ پاکستان کا سسٹم انگریز کے جانے کے بعد سے نیچے جاتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ طاقتور اور عوام کے لیے علیحدہ پاکستان بن گیا، طاقت ور ڈاکووں کو اس سسٹم نے فائدہ پہنچایا اور عام آدمی جیلوں میں بھرے جاتے رہے،کئی قیدیوں کا جرم صرف ان کی غربت ہے ، تعلیم اور انصاف کا سسٹم شروع سے خراب ہوتا رہا، پرائیوٹ انگریزی اسکول اوپر جاتے رہے اور گورنمنٹ اسکول زوال کا شکار ہوگئے ، اسی طرح سرکاری اسپتالوں کا حال بھی خراب ہوتا گیا اور پرائیوٹ اسپتال آتے گئے، امیر ملک سے باہر جاکر علاج کرانے لگے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج جو یہ سسٹم متعارف کروایا ہے اس کا مقصد عام آدمی تک انصاف کی رسائی ہے، مدینے کی ریاست کا تصور صرف جمعے کے خطبوں تک محدود ہوگیا ہے، اس سے بہترین ماڈل دنیا کی تاریخ میں کوئی نہیں جس نے انقلاب برپا کیا، اسلامی فلاحی ریاست کا ماڈل مدینہ کی رہاست ہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ انشورنس جیسا قدم کئی خوشحال ممالک میں بھی موجود نہیں ہے، مفت انشورنس ہر خاندان کو دینا فلاحی رہاست کی جانب اہم قدم ہے۔ ریاست مدینہ کے ابتدائی سالوں میں خوشحالی نہیں تھی، لیکن قانون کی بالادستی سب سے پہلے قائم کی گئی، انصاف کی عدم فراہمی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستان ہمارا اثاثہ ہیں جس کی ترسیلات زر سے پاکستان چل رہا ہے، لیکن وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود اورسیز پاکستانی رہ چکا ہوں اس لیے میں یہ جانتا ہوں کہ وہ رول آف لا نہ ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ۔ ان کو پاکستان کے قانون نظام پر اعتماد ہی نہیں ، اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری پاکستان آ گئی تو ہمیں کسی کے پاس ہاتھ نہیں پھیلانا پڑینگے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جو خوبصورتی پاکستان میں ہے اس کا مقابلہ ہی نہیں سوئٹزرلینڈ کیسا تھ ، وئٹزرلینڈ 80 ارب ڈالر سیاحت سے کماتا ہے ، سوئٹزرلینڈ رول آف لا انڈیکس میں سب سے اوپر ہے، لیکن رول آف لا نہ ہونے کی وجہ سے ، 100 بلین دالر بھی ہم کما نہیں پاتے ٹورازم سے، سوئزلینڈ میں چپڑاسیوں کے اکاونٹ میں اربوں روپے نہیں نکلتے ، وہاں سے کوئی لندن جا کر اربوں کی پراپرٹی نہیں بناتا اور وہاں لوگ پھول پھینک رہے ہوں، ان کا معاشرہ ہمارے لیے مثال ہے، مدینہ کی ریاست میں بھی قانون کی نظر میں سب برابر تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طاقتور کا قانون کے سامنے لانا سب سے بڑا جہاد ہے، آپ نے ریفارمز میں ٹیکنالوجی کا اتعمال کرکہ غیرمعمولی کام کیا ہے، ای وی ایم کا مقصد بھی یہی ہے، عام آدمی کو ان ریفارمز کی اشد ضرورت ہے۔ عدالتی نطام میں ٹیکنالوجی سے عام آدمی کا فائدہ ہو گا۔

تعبیر فاؤنڈیشن اور کِٹاس کالج کے درمیان مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی فراہمی کا معاہدہ
- a day ago
وزیرِ دفاع کی پاکستان تحریک انصاف کو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے کی دعوت
- 6 hours ago

ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
- a day ago

پرواز کارڈ کے تحت 135 ہنر مند نوجوان سعودی عرب روانہ، وزیراعلیٰ پنجاب نے پرواز کارڈ اور بلاسود قرضے تقسیم کیے
- 4 hours ago
امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم پر لگائی گئی سفری پابندیاں نرم کر دیں
- 4 hours ago

گلوکار طارق طافو منوں مٹی تلے جا سوئے
- a day ago
پی آئی بی ایف کی جانب سے پاکستان۔ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے چھ نکاتی ایجنڈا ایرانی سفیر کو پیش
- 6 hours ago
امیرِ قطر کی پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد
- an hour ago

ایرانی صدر کی علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف
- a day ago

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا
- a day ago

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش
- a day ago

نئے تعینات ہونے والے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سالک جلال کا اصلاحاتی مشن، جیلوں کے اچانک دوروں کا آغاز
- 4 hours ago






.webp&w=3840&q=75)
