Advertisement
علاقائی

جشن نوروز: گلگت بلتستان تک کیسے آیا

تحریر: فہیم اختر جواہر لال نہرو بھارت کے پہلے وزیراعظم اور انگریزوں کے خلاف برصغیر کی جدوجہد کے ایک اہم کردار رہے ہیں۔ ان کی پیدائش کشمیرمیں ہوئی اور قومیتی اعتبار سے وہ پنڈت تھے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Mar 22nd 2021, 3:39 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

 انہوں نے اپنی سوانح عمری میں کشمیر کے متعلق بتایا ہے کہ کشمیر اس وقت ہم آہنگی کا گڑھ تھا۔ یہاں کے لوگ مسلمانوں کی عید سے لیکر ہندوؤں کی دیوالی سمیت ہر تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور شریک رہتے، لیکن کشمیریوں کی ایک ایسی رسم تھی جو کشمیر سے باہر نہیں منائی جاتی تھی اور خالص کشمیریوں کی رسم تھی اور وہ رسم جشن نوروز کی تھی۔

گلگت  بلتستان میں نوروز کا جشن یا رسم 21مارچ کو منائی جاتی ہے، اس کے ارتقائی سفر کے علاوہ یہ رسم استقبال بہار، نہری نظام اور زرعی اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے، گلگت کے قدیم نظام کے مطابق اسی روز نہر کی صفائی کی جاتی ہے، زراعت سے منسلک سرگرمیوں کا بھی آغاز کیا جاتا ہے۔ محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس رسم کا آغاز ایران سے ہوا ہے مگر یہ رسم سفر کرتے ہوئے ایشیاء کے اکثریتی علاقوں، بحیرہ اسود سمیت دیگر علاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ رواں سال امریکہ میں پہلی مرتبہ منظم انداز میں آن لائن جشن نوروز بھی منایا گیا ہے جس میں مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوگئے، اس کی ایک وجہ کرونا وائرس کے باعث مشکلات کا بھی ہے۔

اس رسم کو شایان شان اور جوش و جذبے سے منانے کی بنیاد پر اس کو عید سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے جس میں خصوصی تقریبات منعقد کئے جاتے ہیں۔ بچے رنگ برنگے اور عمدہ لباس زیب تن کرکے رشتہ داروں کے گھروں میں جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں انڈے لڑائی جیسے خصوصی کھیل بھی کھیلے جاتے ہیں۔ اس رسم کی ایک تقریب ڈاڈا ہے جس میں نومولود بچوں کے بال کاٹے جاتے ہیں اور اس کے عوض بچوں کو تحفتاً پیسے بھی دئے جاتے ہیں۔ گلگت  بلتستان میں جشن نوروز کو مختلف چیزوں سے منسوب کیا جاتا ہے تاہم اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ رسم یا جشن بہار کی آمد کے سلسلے میں منائی جاتی ہے، جب سورج زمین کے خط استوا کو عبور کرتا ہے جس سے دن او ررات کا دورانیہ برابر ہوجاتا ہے۔ ہنزہ کے معروف سکالر فدا علی ایثار اس رسم کے متعلق کہتے ہیں کہ جب ریاست ہنزہ نے  بلتستان کے راجہ کے رشتہ داری جوڑی اور  بلتستان سے بارات ہنزہ پہنچی تو اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ کر چلی گئی ان نقوش میں ایک نوروز کی روایت بھی ہے۔ فدا علی ایثار کے مطابق یہ رسم ابتدائی طور پر کشمیر سے  بلتستان اور پھر  بلتستان کے راستے ہنزہ پہنچ گئی ہے۔

گلگت  بلتستان میں اس جشن اور رسم کے آغاز کے متعلق فدا علی ایثار نے ایک تقریب کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ جشن نوروز کی ابتدا ایران سے ہوئی قدیم ایرانی حکمران شہنشاہ جمشید،جو کہ چوتھی ایرانی اور دوسری فارسی سلطنت کے بادشاہ تھے،نے اپنے نئے سال اور موسم بہار کے آغاز کے مناسبت سے اپنے نئے محل کی تعمیر کی محل کی تعمیرایسی کہ ہیرے جواہرات اور موتی رشک کرنے لگیں اس محل کانام جمشید محل تھا ا س محل کے تعمیر کی خوشی میں جشن نوروز یعنی نیا دن شروع کیا گیا دوسری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ شہنشاہ جمشید یعنی دیومالائی حکمرانوں کے ہی دور میں یہ رسم ایران سے نکل کر توران تک جاپہنچی توران آج کے قازقستان، آئزربائیجان،کازغستان،شمالی پاکستان و دیگر علاقوں پر مشتمل ہے

دوسری روایت میں ہے کہ شہنشاہ جمشید کے بادشاہت کے موقع پر انہیں اس وقت کے سائنسدانوں نے اڑان کٹھولا بناکر دیا تھا جب شہنشاہ جمشید پہلی بار اڈان کٹھولا پر سفر کرتے ہوئے اپنے ریاست کے دارالخلافہ سے الشکولا نامی شہر تک ہوائی سفر کے زریعے پہنچے تو تب سے جشن نوروز کا ابتداکردیا گیا الغرض تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ اس رسم کی ابتدائایران سے ہوئی اور دیگر علاقوں میں پھیل گئی۔

اس حوالے سے بھی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ فتح ایران کے بعد جب شہنشاہ ایران کی بیٹی شہربانو گرفتار ہوئیں اور حضرت امام حسین ؓ کے عقد میں آئی تو اس کے بعد اس رسم کا تعلق باقاعدہ خاندان نبوت سے جڑ گیا۔ مصرکے فاطمی اور بغداد کے عباسی خلفاء بھی اسے منایا کرتے تھے۔

اور گلگت بلتستان بھی جغرافیائی اور ثقافتی طور پر سنٹرل ایشیائکا حصہ ہونے کی وجہ سے صدیوں سے یہ رسم منایاجارہا ہے۔

گلگت بلتستان خارجی طور پر 1یونٹ اور داخلی طور پر 3یونٹوں میں تقسیم تھا

1۔رجاکی

2۔شیناکی

3۔پیراکی

رجاکی کے علاقہ میں بلتستان، استور، ہنزہ، نگر، چترال و دیگر علاقے شامل ہیں رجاکی کے علاقوں میں موروثی حکومت ہواکرتی تھی ماضی قریب میں بھی ہنزہ میر محل میں جشن نوروز کے موقع پر7دن تک قرآن خوانی کی جاتی رہی ہے پولو، نیزابازی، رسا کشی و دیگر کھیل کھیلے جاتے تھے جبکہ شیناکی کے علاقوں میں دیامر اور کوہستان کے علاقے شامل تھے جن میں جاگیردارانہ نظام (جشٹیرو) تھا تاہم یہ رسم ان علاقوں تک نہیں پہنچ سکی۔فدا علی ایثار اس بات پر قائم نظر آتے ہیں کہ گلگت  بلتستان میں یہ رسم کشمیر کے زریعے  بلتستان پہنچی اور  بلتستان سے ہنزہ پہنچ گئی تاہم وسطی ایشیاء کا مضبوط اثر ہونے کی وجہ سے یہ باقاعدہ جشن او ر عید کی حیثیت اختیار کرگئی۔

Advertisement
ایران ، امریکہ جنگ بندی:آج عالمی امن کے لیے بڑا دن ہے، صدر ٹرمپ

ایران ، امریکہ جنگ بندی:آج عالمی امن کے لیے بڑا دن ہے، صدر ٹرمپ

  • 12 گھنٹے قبل
وفاقی حکومت نےاسلام آبادمیں جمعرات اور جمعہ کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا 

وفاقی حکومت نےاسلام آبادمیں جمعرات اور جمعہ کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا 

  • 9 گھنٹے قبل
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، جنگ بندی میں پاکستان کے مؤثر کردار کی تعریف

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، جنگ بندی میں پاکستان کے مؤثر کردار کی تعریف

  • 7 گھنٹے قبل
اقوام متحدہ سمیت مختلف ممالک کا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم،پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف

اقوام متحدہ سمیت مختلف ممالک کا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم،پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف

  • 12 گھنٹے قبل
جنگ بندی پر اتفاق: وزیراعظم نےمذاکرات کیلئے ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد بلا لیا

جنگ بندی پر اتفاق: وزیراعظم نےمذاکرات کیلئے ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد بلا لیا

  • 12 گھنٹے قبل
کشیدگی کے خاتمے کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان

کشیدگی کے خاتمے کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان

  • 10 گھنٹے قبل
پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، امریکہ اور ایران کا دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان

پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، امریکہ اور ایران کا دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان

  • 12 گھنٹے قبل
ایران امریکا جنگ بندی: وفاقی حکومت کو جمعہ کو ملک بھر میں ’یوم تشکر‘ منانے کا فیصلہ

ایران امریکا جنگ بندی: وفاقی حکومت کو جمعہ کو ملک بھر میں ’یوم تشکر‘ منانے کا فیصلہ

  • 11 گھنٹے قبل
جنگ کے شعلے دو ہفتوں کیلئےماند کیے،اللہ نے چاہا تو ہمیشہ کیلئے بُجھ جائیں گے،یہ ملکی تاریخ کا روشن لمحہ ہے،وزیر اعظم

جنگ کے شعلے دو ہفتوں کیلئےماند کیے،اللہ نے چاہا تو ہمیشہ کیلئے بُجھ جائیں گے،یہ ملکی تاریخ کا روشن لمحہ ہے،وزیر اعظم

  • 8 گھنٹے قبل
کامیاب سیز فائر:پاکستان کو بااعتماد ثالث کے طور پر خطے اور پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے،خواجہ آصف

کامیاب سیز فائر:پاکستان کو بااعتماد ثالث کے طور پر خطے اور پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے،خواجہ آصف

  • 10 گھنٹے قبل
جنگ بندی کے بعد سونا اچانک کئی ہزار روپے مہنگا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟

جنگ بندی کے بعد سونا اچانک کئی ہزار روپے مہنگا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟

  • 11 گھنٹے قبل
وزیراعظم کا مسعود پزشکیان سے رابطہ، ایرانی صدر کی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق

وزیراعظم کا مسعود پزشکیان سے رابطہ، ایرانی صدر کی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق

  • 12 گھنٹے قبل
Advertisement