Advertisement
پاکستان

وزیراعظم کابی این پی چیئرمین طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، انتخابات میں تاریخی کامیابی پر مبارکباد

دونوں رہنماؤں نےخالدہ ضیاء کا ذکر کیا اور پاک -بنگلہ تعلقات میں ان کی نمایاں خدمات اور دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں ان کے کلیدی کردار کو خراج تحسین پیش کیا،

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 months ago پر Feb 13th 2026, 9:51 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
وزیراعظم کابی این پی چیئرمین طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، انتخابات میں تاریخی کامیابی پر مبارکباد

اسلام آباد:وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں عام انتخابات میں ان کی پارٹی کی تاریخی اور شاندار کامیابی پر عوام اور حکومت پاکستان کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کی۔

 ٹیلیفونک رابطے میں وزیر اعظم نے بنگلہ دیش کے عوام کو عام انتخابات کے کامیاب انعقاد پر بھی مبارکباد دی، جو بنگلہ دیشی قوم کے جمہوری نظریات اور اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ 

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی، برادرانہ تعلقات کو یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے بنگلہ دیش کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ باہمی مفاد کے تمام شعبوں کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور ترقی کے لیے ایک دوسرے کی خودمختاری کے مکمل احترام کے ساتھ باہمی فائدہ مند دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

اپنی خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے بیگم خالدہ ضیاء کا ذکر کیا اور پاکستان بنگلہ دیش تعلقات میں ان کی نمایاں خدمات اور دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں ان کے کلیدی کردار کو خراج تحسین پیش کیا،وزیراعظم نے طارق رحمان کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

دوسری جانب بی این پی چئیرمین طارق رحمان نے بھی وزیراعظم کو بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کی دعوت دی ، دونوں رہنماؤں نے آنے والے دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا تاکہ دونوں لوگوں کی بہتری کے لیے کام کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن میں ملک میں گزشتہ روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق طارق رحمان کی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو گئی۔

الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں لیکر واضح برتری حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ 

Advertisement