Advertisement
پاکستان

عمران خان صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کے خلاف بول پڑے

اسلام آباد:سابق وزیر اعظم عمران خان نےعارف حمید بھٹی سمیت دیگر سینئر صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو ملنے والی دھمکیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Jul 5th 2022, 11:33 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
عمران خان صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں  کے خلاف  بول پڑے

اپنے ایک ویڈیو بیان میں سابق وزیر اعطم عمران خان نے کہا کہ عارف حمید بھٹی مجھ پر بہت تنقید کرتے ہیں، اس کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ڈاکٹر معید پیرزادہ کو خوف دلایا جا رہا ہے، ڈرایا جا رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ارشد شریف، صابر شاکر، سمیع ابراہیم، عدنان عادل،جمیل فاروقی جو بھی صحافی بک نہیں رہا ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کٹوائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ہیڈ ڈاکٹر ارسلان کے گھر میں گھس گئے جہاں اس کی ماں تھی، بنہیں تھیں، اس کا کزن آیا ہوا تھا جسے 15، 20 لوگوں نے اندر گھس کے اسے پکڑ کر مارا، انہوں نے خوف پھیلایا ہوا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اسی دوران کچھ بات چیت کے لیے ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز میرے پاس آئے، ان کو بھی کالز چلی گئیں کہ آپ نے یہ نہیں کہنا، یہ نہیں لکھنا۔

انہوں نے کہا کہ اپنی عدالیہ سے سوال پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستان میں بنیادی حقوق معطل ہو گئے ہیں؟ کیا یہاں مارشل لاء لگ گیا ہے؟ ان چیزوں کی اجازت کون سا آئین دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جاری ضمنی انتخابات میں ہماری پارٹی کا جو کارکن بھی کمپین کے لیے نکلا ہوا ہے اس کو پکڑ کر جیل میں بند کر دیتے ہیں، اپنی عدلیہ سے ایک بار پھر پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستان میں بنیادی حقوق معطل ہو گئے ہیں۔

Advertisement
Advertisement