چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ ’بتائیں کہ نیب ترامیم سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا۔ نیب ترامیم میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کی اجازت نہیں دی گئی۔‘


پاکستان کی سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ چاہتے ہیں کہ نیب ترامیم کا معاملہ واپس پارلیمنٹ بھیجیں۔
منگل کو سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے پاس لوگوں کا اعتماد ہے۔ اس ملک، قوم اور آئین کے بارے میں سوچیں۔‘
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب قانون میں ترامیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اعجاز الحسن بنچ کا حصہ ہیں۔
عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو رکن قومی اسمبلی لکھوایا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی کو روسٹرم پر بلا کر ریمارکس دیے ’جب نیب ترمیمی بل پاس ہو رہا تھا اس وقت تحریک انصاف کہاں تھی؟ ملک کے 35 فیصد ووٹرز نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور آپ نے ان کی نمائندگی ترک کر دی۔‘
چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ نیب ترامیمی پاس ہونے کے وقت پی ٹی آئی کہاں تھی؟ شاہ محمود نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ میں ہماری عدم موجودگی کی وجوہات کچھ اور ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ پہلے کی بات کر رہے ہیں جبکہ ہم تحریک عدم اعتماد کے بعد کی بات کر رہے ہیں۔ آپ ہمارا سوال نہیں سمجھ رہے۔ ہم نوٹس جاری کر رہے ہیں لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر معاملات پر بچث ہونی چاہیے۔ آئندہ سماعت پر قریشی صاحب آپ بھی آئیں دوسرے طرف سے بھی لوگ بلائیں گے۔‘
سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بڑی محنت کی ہے۔ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جنہوں نے ترامیم کی ہیں انھوں نے بھی بڑی محنت کی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’ کچھ دن پہلے وزیر قانون نے مجھے بتایا کہ ہر ترمیم کے پیچھے کوئی نہ کوئی عدالتی فیصلہ ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟‘
اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ’نہیں ایسا نہیں ہے، ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں سے متصادم تو ہیں لیکن ان کے مطابق نہیں، نیب قانون میں موجودہ ترامیم کر کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔ ‘
جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ’حیران کن طور پر عجلت میں نیب ترامیم ہوئیں۔‘ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’کیا یہ قانون سازوں کا کام نہیں تھا کہ نیب قانون بنائیں۔ عدالتوں نے متعدد بار کہا کہ نیب قوانین بنائیں، کیا قانون سازوں کو ان کا استحقاق استعمال کرنے نہیں دینا چاہیے؟ پارلیمنٹ کل قرار دے کہ قتل جرم نہیں ہے تو کیا ایسا ہونے دیا جائے؟‘
خواجہ حارث نے جواب دیا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ سزائے موت ختم کرنے کا معاملہ مختلف ہے۔ جہاں کرپشن اور قومی خزانے کا معاملہ ہو وہاں بات بنیادی حقوق کی آتی ہے۔ اسی وجہ سے استدعا کی ہے کہ اس قانون کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دینا چاہیے۔
چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ ’بتائیں کہ نیب ترامیم سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا۔ نیب ترامیم میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کی اجازت نہیں دی گئی۔‘
خواجہ حارث نے کہا کہ ’زیادہ کیسز اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے ہوتے ہیں۔ ترمیم کے بعد کسی کو فائدہ پہنچانے پر کیس نہیں بنے گا۔ جب تک اختیار استعمال کرنے والا خود فائدہ نہ لے کیس نہیں بن سکے گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ’سرکار کا کام آگے بڑھنا چاہیے۔ نیب کے قانون نے بہت سے معاملات میں رکاوٹ بھی پیدا کی ہے۔ خاص طور پر بیوروکریسی پر نیب قانون کا بڑا اثر پڑا ہے۔ مخصوص فرد کے لیے بنے قانون کو عدالت کالعدم کر سکتی ہے۔ ماضی میں مخصوص افراد کے لیے ہونے والی قانون سازی عدالت کالعدم قرار دے چکی۔ کرپشن کرنے والے کو سزا ہونی چاہیے نہ کہ اس کا کیا گیا کوئی ضروری فیصلہ ہی واپس ہو جائے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’کیا نیب نے آج تک ملکی ترقی میں کردار ادا کیا ہے یا فیصلہ سازی کو روکا ہے؟ اس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ نیب سیاسی انجینیئرنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے یا نہیں۔ ہر حکومت اپنی اپوزیشن کے خلاف نیب کو استعمال کرتی ہے۔ فیصلہ ساز ملکی مفاد میں فیصلے کرنے سے اس لیے ڈرتے تھے کہ نیب نہ پکڑ لے۔
’نیب قانون نے ہمیں پیچھے بھی دھکیلا ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہم ان سب قوانین کو بغور دیکھیں۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ترامیم پارلیمنٹ نے کی ہیں۔‘
اس کے جواب میں خواجہ حارث کا کہنا تھا ’نیب قوانین غلط نہیں ہیں بلکہ جن لوگوں نے انھیں سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا وہ غلط ہیں۔‘
اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں پر ایک سوال ہے کہ جب یہ قانون سازی ہو رہی تھی تو اپوزیشن کہاں تھی؟ شاہ محمود قریشی یہاں موجود ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ ’قریشی صاحب جب پارلیمنٹ میں حساس معاملات پر قانون سازی ہوئی آپ کی جماعت کیوں نہیں تھی؟
چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ’کیا پارلیمنٹ اور عدلیہ کو اپنا اپنا کام نہیں کرنا چاہیے؟ جب نیب قانون پاس ہو رہا تھا پی ٹی آئی کہاں تھی؟ پی ٹی آئی نے اسمبلی کو ترک کر دیا۔ ملک و آئین کی خاطر سوچیں۔ اتنی بڑی جماعت اسمبلی میں نہیں تھی، پھر کہتے ہیں قانون خلاف قانون بن گئے۔‘
محود قریشی نے کہا کہ ’جب زاہد حامد وزیر قانون تھے تب بھی ہم نے ترامیم کی کوشش کی، کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے۔ جب ہماری حکومت تھی تب فیٹف قانون سازی کے وقت اپوزیشن 35 ترامیم لے آئی۔ اس سے یہ قانون غیر موثر ہو جاتا تھا۔‘

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: اسحاق ڈار کی مصر ی وزیر خارجہ کے بعد ترک ہم منصب سے ملاقات
- 11 گھنٹے قبل

حکومتی فیصلوں کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے، وزیراعظم
- 10 گھنٹے قبل

بشریٰ بی بی کو بھی آنکھ کی شکایت،اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل
- 10 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار سے مصری ہم منصب کی ملاقات، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات سے مسائل حل کرنے پر زور
- 12 گھنٹے قبل

ایف آئی اے کی گوجرانوالہ میں کامیاب کارروائی، مراکش کشتی حادثہ میں ملوث انسانی اسمگلر گرفتار
- 4 گھنٹے قبل

امریکا اپنے زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے،جلد ایران سے نکل جائیں گے،جے ڈی وینس
- 11 گھنٹے قبل

انسولین اوردیگر جان بچانے والی دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا،دواساز کمپنیوں کادعویٰ
- ایک دن قبل

ایران کا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے سے نکلنے پر غور،تین نکاتی منصوبہ تیار
- 11 گھنٹے قبل

مشر ق وسطیٰ میں کشیدگی :ـوزیراعظم سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات،خطے میں امن استحکام پر زور
- 4 گھنٹے قبل

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات،مشرق وسطیٰ اور عالمی صورتحال پر گفتگو
- 4 گھنٹے قبل

خوراک کے ضیاع اور نقصانات میں کمی بھوک، غربت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے،پاکستان
- 12 گھنٹے قبل

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی:اسلام آباد میں سعودیہ، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا آغاز
- 7 گھنٹے قبل







