Advertisement
پاکستان

’پارلیمنٹ کا متبادل نہیں، نیب ترامیمی معاملہ واپس بھیجنا چاہتے ہیں‘

 چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ ’بتائیں کہ نیب ترامیم سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا۔ نیب ترامیم میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کی اجازت نہیں دی گئی۔‘  

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Jul 19th 2022, 8:54 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
’پارلیمنٹ کا متبادل نہیں، نیب ترامیمی معاملہ واپس بھیجنا چاہتے ہیں‘

پاکستان کی سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ چاہتے ہیں کہ نیب ترامیم کا معاملہ واپس پارلیمنٹ بھیجیں۔
منگل کو سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے پاس لوگوں کا اعتماد ہے۔ اس ملک، قوم اور آئین کے بارے میں سوچیں۔‘  
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب قانون میں ترامیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اعجاز الحسن بنچ کا حصہ ہیں۔ 

عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو رکن قومی اسمبلی لکھوایا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی کو روسٹرم پر بلا کر ریمارکس دیے ’جب نیب ترمیمی بل پاس ہو رہا تھا اس وقت تحریک انصاف کہاں تھی؟ ملک کے 35 فیصد ووٹرز نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور آپ نے ان کی نمائندگی ترک کر دی۔‘ 
چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ نیب ترامیمی پاس ہونے کے وقت پی ٹی آئی کہاں تھی؟ شاہ محمود نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ میں ہماری عدم موجودگی کی وجوہات کچھ اور ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ پہلے کی بات کر رہے ہیں جبکہ ہم تحریک عدم اعتماد کے بعد کی بات کر رہے ہیں۔ آپ ہمارا سوال نہیں سمجھ رہے۔ ہم نوٹس جاری کر رہے ہیں لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر معاملات پر بچث ہونی چاہیے۔ آئندہ سماعت پر قریشی صاحب آپ بھی آئیں دوسرے طرف سے بھی لوگ بلائیں گے۔‘  

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بڑی محنت کی ہے۔ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جنہوں نے ترامیم کی ہیں انھوں نے بھی بڑی محنت کی ہے۔  
چیف جسٹس نے کہا کہ ’ کچھ دن پہلے وزیر قانون نے مجھے بتایا کہ ہر ترمیم کے پیچھے کوئی نہ کوئی عدالتی فیصلہ ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟‘
اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ’نہیں ایسا نہیں ہے، ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں سے متصادم تو ہیں لیکن ان کے مطابق نہیں، نیب قانون میں موجودہ ترامیم کر کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔ ‘ 
جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ’حیران کن طور پر عجلت میں نیب ترامیم ہوئیں۔‘  جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’کیا یہ قانون سازوں کا کام نہیں تھا کہ نیب قانون بنائیں۔ عدالتوں نے متعدد بار کہا کہ نیب قوانین بنائیں، کیا قانون سازوں کو ان کا استحقاق استعمال کرنے نہیں دینا چاہیے؟ پارلیمنٹ کل قرار دے کہ قتل جرم نہیں ہے تو کیا ایسا ہونے دیا جائے؟‘  
خواجہ حارث نے جواب دیا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ سزائے موت ختم کرنے کا معاملہ مختلف ہے۔ جہاں کرپشن اور قومی خزانے کا معاملہ ہو وہاں بات بنیادی حقوق کی آتی ہے۔ اسی وجہ سے استدعا کی ہے کہ اس قانون کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دینا چاہیے۔
 چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ ’بتائیں کہ نیب ترامیم سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا۔ نیب ترامیم میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کی اجازت نہیں دی گئی۔‘  
خواجہ حارث نے کہا کہ ’زیادہ کیسز اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے ہوتے ہیں۔ ترمیم کے بعد کسی کو فائدہ پہنچانے پر کیس نہیں بنے گا۔ جب تک اختیار استعمال کرنے والا خود فائدہ نہ لے کیس نہیں بن سکے گا۔  

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ’سرکار کا کام آگے بڑھنا چاہیے۔ نیب کے قانون نے بہت سے معاملات میں رکاوٹ بھی پیدا کی ہے۔ خاص طور پر بیوروکریسی پر نیب قانون کا بڑا اثر پڑا ہے۔ مخصوص فرد کے لیے بنے قانون کو عدالت کالعدم کر سکتی ہے۔ ماضی میں مخصوص افراد کے لیے ہونے والی قانون سازی عدالت کالعدم قرار دے چکی۔ کرپشن کرنے والے کو سزا ہونی چاہیے نہ کہ اس کا کیا گیا کوئی ضروری فیصلہ ہی واپس ہو جائے۔‘  
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’کیا نیب نے آج تک ملکی ترقی میں کردار ادا کیا ہے یا فیصلہ سازی کو روکا ہے؟ اس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ نیب سیاسی انجینیئرنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے یا نہیں۔ ہر حکومت اپنی اپوزیشن کے خلاف نیب کو استعمال کرتی ہے۔ فیصلہ ساز ملکی مفاد میں فیصلے کرنے سے اس لیے ڈرتے تھے کہ نیب نہ پکڑ لے۔
’نیب قانون نے ہمیں پیچھے بھی دھکیلا ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہم ان سب قوانین کو بغور دیکھیں۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ترامیم پارلیمنٹ نے کی ہیں۔‘ 
اس کے جواب میں خواجہ حارث کا کہنا تھا ’نیب قوانین غلط نہیں ہیں بلکہ جن لوگوں نے انھیں سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا وہ غلط ہیں۔‘

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں پر ایک سوال ہے کہ جب یہ قانون سازی ہو رہی تھی تو اپوزیشن کہاں تھی؟ شاہ محمود قریشی یہاں موجود ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ ’قریشی صاحب جب پارلیمنٹ میں حساس معاملات پر قانون سازی ہوئی آپ کی جماعت کیوں نہیں تھی؟  
چیف جسٹس نے شاہ محمود قریشی کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ’کیا پارلیمنٹ اور عدلیہ کو اپنا اپنا کام نہیں کرنا چاہیے؟ جب نیب قانون پاس ہو رہا تھا پی ٹی آئی کہاں تھی؟ پی ٹی آئی نے اسمبلی کو ترک کر دیا۔ ملک و آئین کی خاطر سوچیں۔ اتنی بڑی جماعت اسمبلی میں نہیں تھی، پھر کہتے ہیں قانون خلاف قانون بن گئے۔‘  
محود قریشی نے کہا کہ ’جب زاہد حامد وزیر قانون تھے تب بھی ہم نے ترامیم کی کوشش کی، کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے۔ جب ہماری حکومت تھی تب فیٹف قانون سازی کے وقت اپوزیشن 35 ترامیم لے آئی۔ اس سے یہ قانون غیر موثر ہو جاتا تھا۔‘ 

Advertisement
ملک میں سونے کی قیمت مزید کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

ملک میں سونے کی قیمت مزید کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • ایک دن قبل
کے پی اور پاک افغان سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 37 دہشتگرد جہنم واصل

کے پی اور پاک افغان سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 37 دہشتگرد جہنم واصل

  • ایک دن قبل
لاہور ہائیکورٹ کی این سی سی آئی اےکو محمد رضوان کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کی این سی سی آئی اےکو محمد رضوان کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت

  • ایک دن قبل
پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیارہو گئی، راجا ناصر عباس

پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیارہو گئی، راجا ناصر عباس

  • 21 گھنٹے قبل
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی کا رجحان جاری

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی کا رجحان جاری

  • 4 گھنٹے قبل
علیمہ خان کے بعد عمران خان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی نظربند

علیمہ خان کے بعد عمران خان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی نظربند

  • ایک دن قبل
ایشین گیمز: پاکستان کبڈی اور ہاکی ٹیموں نے  دوسری کامیابی اپنے نام کر لی

ایشین گیمز: پاکستان کبڈی اور ہاکی ٹیموں نے دوسری کامیابی اپنے نام کر لی

  • 6 گھنٹے قبل
بلوچستان میں مسلح افراد کا مند کے کسٹمز اسٹیشن پر حملہ، دفتر کو آگ لگادی، سپاہی زخمی

بلوچستان میں مسلح افراد کا مند کے کسٹمز اسٹیشن پر حملہ، دفتر کو آگ لگادی، سپاہی زخمی

  • 4 گھنٹے قبل
اسٹیج اور ٹی وی کے سینئر فنکار آصف اقبال منوں مٹی تلے جا سوئے

اسٹیج اور ٹی وی کے سینئر فنکار آصف اقبال منوں مٹی تلے جا سوئے

  • ایک دن قبل
امریکی ایف 16 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، حادثہ کہاں پیش آیا؟

امریکی ایف 16 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، حادثہ کہاں پیش آیا؟

  • ایک گھنٹہ قبل
مسلح افواج دہشتگردی کو شکست دینے اور ملک میں پائیدار امن و استحکام یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر

مسلح افواج دہشتگردی کو شکست دینے اور ملک میں پائیدار امن و استحکام یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر

  • 7 گھنٹے قبل
ساڑھے سترہ لاکھ سے زائد افراد فیول ریلیف سکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، شزہ فاطمہ

ساڑھے سترہ لاکھ سے زائد افراد فیول ریلیف سکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، شزہ فاطمہ

  • 3 دن قبل
Advertisement