مجھے سمجھ نہیں آ رہی اتنا خوف کیوں ہے،مجھے تو آج آتے آتے بھی 15منٹ لگ گئے، مجھے گرفتار کرنے کی کوشش بہت دیر سے کی جا رہی ہے۔چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی پر گفتگو

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر آج پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر 2 ایس پیز سمیت 778 افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے۔
سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ہائیکورٹ کے گرد مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر حفاظتی انتظامات کی ذمے داری سیکیورٹی ڈویژن کے سپرد کی گئی۔ عمران خان نے عدالت پیشی پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ آج کلبھوشن یادیو عدالت آ رہا تھا۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی اتنا خوف مجھے تو آج آتے آتے بھی 15منٹ لگ گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات میچ دیکھنے کےلیے وقت نہیں تھا۔گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنا نیاجواب جمع کرادیا، نئے جواب میں بھی عمران خان نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیان کا سوچ بھی نہیں سکتا،
لفظ شرمناک توہین کے لیے استعمال نہیں کیا، جج زیبا چوہدری کے جذبات مجروح کرنا مقصد نہیں تھا،جج زیبا چوہدری کے جذبات مجروح ہوئے اس پر گہرا افسوس ہے،غیر ارادی طور پر منہ سے نکلے الفاظ پر گہرا افسوس ہے، اپنے الفاظ پر جج زیبا چوہدری سے پچھتاوے کا اظہار کرنے سے شرمندگی نہیں ہو گی، عدالت نے مجھے ضمنی جواب کی مہلت دی اس پر بھی تنقید ہوئی،سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی تاک میں رہنے والوں نے شدید تنقید کی۔
عمران خان کے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ آئندہ ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط سے کام لوں گا، نہ تو کبھی ایسا بیان دیا نہ مستقبل میں دوں گا جو کسی عدالتی زیر التواء مقدمے پر اثر انداز ہو،میں عدلیہ مخالف بدنتیی پر مبنی مہم چلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا،عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے یا انصاف کی راہ میں رکاوٹ کا سوچ بھی نہیں سکتا،ہائی کورٹ اور اس کی ماتحت عدالتوں کے لیے بہت احترام ہے،
شہباز گل پر ٹارچر کا سن کر غیر ارادی طور پر الفاظ ادا کیے،عدالت سے استدعا ہے کہ میری وضاحت کو منظور کیا جائے، جواب میں عمران خان نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ عدالتیں ہمیشہ معافی اور تحمل کے اسلامی اصولوں کو تسلیم کرتی ہیں،عفُو و درگُزر اور معافی کے وہ اسلامی اصول اس کیس پر بھی لاگو ہوں گے۔

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ڈیٹا سینٹر سکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا
- 3 دن قبل
29 جولائی کوعام تعطیل کا سرکاری اعلان کر دیا گیا
- 15 گھنٹے قبل
پنجاب حکومت کا پرواز کارڈ اسکیم کے تحت اوورسیز روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز سے اشتراک
- ایک دن قبل

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی، خریداروں کے چہرے کھل اٹھے
- 4 دن قبل
جنرل سید عامر نےکمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈکا منصب سنبھال لیا، فیلڈ مارشل سے بھی ملاقات
- 8 گھنٹے قبل

پاکستان پیپلز پارٹی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی، گورنر پنجاب
- 8 گھنٹے قبل

مون سون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، محکمۂ صحت ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ سے الرٹ
- 4 دن قبل
لیجنڈ گلوکارعطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا اپنی تدفین کے حوالے سے انکشاف
- 4 دن قبل
وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو ''فور اسٹار جنرل''کے عہدے پر ترقی دینے کااعلان
- 4 دن قبل

پاکستان میں مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود کتنا ہو گیا؟
- 14 گھنٹے قبل

اداکارہ و ماڈل روما مائیکل نے جیون ساتھی چن لیا
- ایک دن قبل
آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ جاری
- 15 گھنٹے قبل

