Advertisement

 میزائل پروگرام قومی دفاع کا معاملہ ہے،میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا،ایران

جوہری افزودگی ایران کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے، اسے جاری رہنا چاہیے، بمباری سے بھی وہ ہماری جوہری صلاحیتوں کو ختم نہیں کر سکتے،عباس عراقچی

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 months ago پر Feb 7th 2026, 6:05 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 میزائل پروگرام قومی دفاع کا معاملہ ہے،میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا،ایران

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےواضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام قومی دفاع کا معاملہ ہے، ایران کا میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے بیان میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کیساتھ جنگ کا امکان موجود ہے، ایران امن اور جنگ دونوں کیلئے تیارہے، حملے کی صورت امریکی افواج نشانہ ہوں گی، علاقائی ممالک نہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جوہری افزودگی ایران کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے، اسے جاری رہنا چاہیے، بمباری سے بھی وہ ہماری جوہری صلاحیتوں کو ختم نہیں کر سکتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم افزودگی کے حوالے سے ایک یقین دہانی کے معاہدے تک پہنچنے کےلیے تیار ہیں، ایران کا میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا، یہ قومی دفاع کا معاملہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی جنگ عالمی قوانین کے خاتمے کی علامت ہے۔ غزہ میں ہونے والی تباہی اسرائیل کی جانب سے کھلی نسل کشی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ جنگ نے فلسطینی مسئلے کو دوبارہ عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا دیا،عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں خطے میں عدم مساوات کو فروغ دے رہی ہیں۔

عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، امریکا اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جلد ہونی چاہیے۔

Advertisement