جی این این سوشل

پاکستان

خدانخواستہ کورونا زیادہ پھیلا تو لاک ڈاؤن پر مجبو رہوجائیں گے: وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر میں احتیاط کی زیادہ ضرور ت ہے، خدانخواستہ کورونا زیادہ پھیلا تو لاک ڈاؤن پر مجبو رہوجائیں گے۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تیسری لہر کب تک چلےگی۔عوام احتیاط کریں۔ماسک پہنیں۔انتظامیہ سے تعاون کریں۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

خدانخواستہ کورونا زیادہ پھیلا تو لاک ڈاؤن پر مجبو رہوجائیں گے: وزیر اعظم
خدانخواستہ کورونا زیادہ پھیلا تو لاک ڈاؤن پر مجبو رہوجائیں گے: وزیر اعظم

ٹیلی فون پر شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ اللہ نے پاکستان پر خاص کرم کیااور مشکل وقت سے بچایا،بھارت امریکا برطانیہ کی طرح کی لہر آتی تو پہلے ہی معاشی حالات ٹھیک نہیں تھے ،یورپ نے ویکسین لگانے کے باوجود لاک ڈاؤن کردیاہے ۔انہوں نے کہاکہ سب کو تاکید کرتا ہوںکہ ماسک پہننا شروع کریں ،دنیامیں سب سمجھ بیٹھے ہیں ماسک پہننے کاسب سے زیادہ فائدہ ہے ،ان کاکہناتھا کہ لوگ پرواہ نہیں کررہے،ہم تو لوگوں کو بچا رہے ہیں لاک ڈاؤن نہیں لگا رہے ،اگرکورونا پھیل گیا تو بہت برااثر پڑے گا اور ہم لاک ڈاؤن پر مجبور ہو جائیں گے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ یورپ میں لوگوں کو ویکسین لگانے کے باوجود لاک ڈاوَن کیا گیا ہے، ہم لاک ڈاوَن نہیں کررہے، فیکٹریاں بھی کھلی ہیں، اللہ نہ کرے اگرحالات زیادہ خراب ہوجائیں تو پھر ہم بھی مجبور ہوجائیں گے، باقی دنیا میں جہاں بھی لاک ڈاوَن لگا وہاں سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوئے،ماسک پہننا سب سے آسان ہے، ماسک لازمی پہنیں اور پہلے سے زیادہ احتیاط کریں۔

خاتون شہری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم 70 فیصد دالیں امپورٹ کررہے ہیں، ملک میں مڈل مین کی زیادہ منافع خوری کی وجہ سے مہنگائی ہے، ایسا نظام لارہے ہیں کہ کسان براہ راست منڈیوں تک چیزیں پہنچائیں، معیشت کی بہتری کی وجہ سے روپیہ بھی مستحکم ہواہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہماری ساری توجہ صرف مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہے، مہنگائی کی وجہ جاننے کے لئے کام ہورہا ہے اور ہم قابو کرکے دکھائیں گے۔

صحت کے شعبے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے صحت کے شعبے میں انقلاب لارہے ہیں، پنجاب، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ سے لوگ علاج کراسکیں گے، پختونخوامیں تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیا گیا ہے، پنجاب میں بھی تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے جارہے ہیں، ہیلتھ کارڈکی سہولت ترقی یافتہ ملکوں میں بھی نہیں۔ اس کے علاوہ ہم اوقاف ، متروکہ وقف املاک اور سرکاری زمینوں پراسپتال بنوائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کرپشن ایسی کینسر ہے جو صرف پاکستان نہیں ہر غریب ملک میں پھیلا ہوا ہے، حکمرانوں کی کرپشن ملکوں کو مقروض کرتی ہے، کرپشن امیرملک کوبھی تباہ کردیتی ہے، امیر ممالک بھی کرپشن کی وجہ سے معاشی طور پر تباہ ہوجاتے ہیں، غریب ملکوں سے ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر  چوری ہوتے ہیں، ساری قوم مل کر کرپشن کا مقابلہ  کرتی ہے،عمران خان اکیلے نہیں لڑسکتا۔ نواز شریف کو کہہ رہے تھے شیورٹی بانڈ دو  لیکن عدلیہ نے باہر بھیج دیا۔قانون بنانے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی، ہم سب نے اس کے لئے کام کرنا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب کرپشن کرنے والوں پر پھول پھینکیں گے تو نیچے والے لوگ بھی پھر کرپشن کرتے ہیں۔ اصل چیز قانون کی عمل داری ہوتی ہے، پاکستان میں قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی جارہی ہے، کچھ لوگ خود کو قانون سے برتر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت گرادو کیونکہ یہ این آر او نہیں دیتا۔

وزیراعظم نے ایک بار پھر چینی مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھائی جاتی ہیں، جس سے لوگوں کا خون چوسہ جاتاہے، مافیاز ذخیرہ اندوزی کرتےہیں جس سے مہنگائی بڑھتی ہے، ملک میں چینی موجود ہوتی ہے مگر قیمتیں اوپر جانا شروع ہوجاتی ہیں، آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہم ہر وقت اس پر کنٹرول کررہےہیں۔وزیراعظم نے ہائیرایجوکیشن میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہائیرایجوکیشن میں بڑی تبدیلی کرنے لگے ہیں، قومیں ہائیر ایجوکیشن سے اوپر جاتی ہیں، عمارت بنانے سے یونیورسٹی نہیں بن جاتی، معیاری تعلیم کیلئے اعلیٰ پروفیسرز ہوں تو یونیورسٹی کا فائدہ ہوتاہے۔

مہنگائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی مہنگائی کو مہنگائی نہ سمجھیں ، ملک میں اس وقت معیشت کے تمام اشاریے مثبت ہیں۔ پہلی مرتبہ روپیہ مضبوط ہو ریا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ہماری صرف اور صرف توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں ہے، انتظامی طورپر مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے اپنا کردارادا کررہےہیں، مہنگائی کی کیا وجہ ہے اس پر ایک سال سے پورا کام ہورہاہے، کیونکہ کسان چیز مارکیٹ میں بیچتا ہے جب عوام تک پہنچتی ہے تو بہت فرق آجاتاہے، انشااللہ عوام کو ہم مہنگائی پر قابو پاکر دکھائیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیزل مہنگا ہوتو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے جس کے باعث دیگرچیزوں پر اثرپڑتا ہے، 70فیصد گھی کیلئے استعمال ہونیوالا تیل ہم امپورٹ کرتے ہیں،افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کےباوجود دالیں امپورٹ کرتاہے، ملک میں آبادی بڑھتی گئی گندم میں بھی خسارہ آگیا بارش بھی غلط ٹائم پر ہوگئی ،جس کا نتیجہ نکلا کہ ایک سال کے اندر ہمیں 40لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرناپڑی۔

 

دنیا

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے مزید 4 جاسوس آسٹریلیا سے بے دخل

کینیڈ اور امریکہ میں بھی بھارت کی جاسوسی سرگرمیاں بے نقاب ہوچکی ہیں، رپورٹ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے مزید 4 جاسوس آسٹریلیا سے بے دخل

آسٹریلیا نے بھارت کے مزید 4 جاسوسوں کو اپنے ملک سے بے دخل کر دیا ہے۔ جاسوسوں کی تازہ بے دخلی کو آسٹریلیا میں بھی مودی سرکار کے لیے زبردست دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔کینیڈ اور امریکہ میں بھی بھارت کی جاسوسی سرگرمیاں بے نقاب ہوچکی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی خفیہ ادارے ’’راـ ‘‘کی طرف سے جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کرنے کا بنیادی مقصد بیرونِ ملک مقیم بھارتی باشندوں پر نظر رکھنا اور اختلافِ رائے کو دھمکانا تھا۔آسٹریلوی قانون سازوں پر اثر انداز ہونے کے لیے جاسوسوں کا نیٹ ورک بنایا جارہا تھا۔

آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے تحقیقات کے نتیجے میں بتایا ہے کہ بے دخل کیے گئے جاسوس آسٹریلوی سیاست دانوں اور دفاعی ٹیکنالوجیز سے وابستہ افراد اور اداروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

تاہم ان جاسوسوں کو حکام نے ملک سے بہت خاموشی کے ساتھ نکالا ہے تاکہ مودی سرکار کے لیے سُبکی اور شرمندگی کا سامان نہ ہو لیکن عوامی سطح پر جاسوسی کی مذمت نہ کیے جانے پر آسٹریلیا کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

گرینز پارٹی کے سینیٹر شوبرج نے مطالبہ کیا ہے کہ آسٹریلیا سرعام بھارت کی مذمت کرے۔

آسٹریلوی حکام نے بتایا ہے کہ بھارتی جاسوس نیٹ ورک ایئر پورٹ سکیورٹی پروٹوکولز کو بھی نشانہ بنارہا تھا۔

یاد رہے کہ 2021 میں انٹیلی جنس چیف مائک برجس نیٹ ورک کا پتا لگایا تھا اور سفارت کاروں کے بھیس میں کام کرنے والے جاسوسوں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ انہوں نے بھارت کا نام نہیں لیا تھا۔ نام نہاد سفارت کاروں کو خاموشی سے، پروفیشنل طریقے سے ملک بدر کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اپریل میں دو جاسوس نکالے گئے تھے۔ چار جاسوسوں کی بے دخلی کا انکشاف آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے اپنی تحقیقات میں کیا۔ آسٹریلیا میں بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہونے کی اولین خبریں اپریل میں آئی تھیں جب واشنگٹن پوسٹ نے بتایا تھا کہ دو بھارتی جاسوس نکال دیئے گئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

لیپ ٹاپ کی بیٹری 2 بچوں کی موت کا سبب بن گئی

گھر میں چارجنگ پر لگے لیپ ٹاپ کی بیٹری پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی، وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لیپ ٹاپ کی بیٹری 2 بچوں کی موت کا سبب بن گئی

فیصل آباد میں لیپ ٹاپ کی بیٹری پھٹنے سے گھر میں آگ بھڑک اٹھی، جس میں 2 بچے جاں بحق ہو گئے جبکہ 7 افراد زخمی بھی ہوئے۔

ذرائعکے مطابق ستیانہ روڈ پر محلہ شریف پورہ کے ایک گھر میں آگ لگنے کے باعث 9 افراد جھلس گئے جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں 2  بہن بھائی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ زخمیوں میں 5 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں جو ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ گھر میں آگ چارجنگ پر لگے لیپ ٹاپ کی بیٹری پھٹنے سے لگی، آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔  

پولیس کے مطابق آگ لگنے کے واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیصل آباد میں جھلسنے سے بچوں کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو  علاج و معالجے کی بہترین طبی سہولیات دینے کا حکم دیا۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عید کے موقع پر بہترین صفائی اور عوامی خدمت پر وزیراعظم کی وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی ٹیم کو شاباش

امید ہےعوامی خدمت کا یہ معیار مزید بہتر ہوگا، شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عید کے موقع پر بہترین صفائی اور عوامی خدمت پر وزیراعظم کی وزیراعلیٰ پنجاب  اور ان کی ٹیم کو شاباش

بڑی عید کے تین دن میں بہترین صفائی اور عوامی خدمت پر وزیراعظم شہبازشریف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی ٹیم کو شاباش دی ہے۔

شہباز شریف نے شاباش دیتے ہوئے کہا کہ ”ویل ڈن پنجاب“، ”ویل ڈن مریم نواز“ اور ساتھی ہی یہ بھی کہا کہ شدید ترین گرمی میں عملےکی محنت قابل تعریف ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ امید ہےعوامی خدمت کا یہ معیار مزید بہتر ہوگا، ڈرون کے استعمال سے لاہور نہر میں گندگی پھینکنے میں 80 فی صد کمی قابل ستائش ہے۔

شاعرانہ تبصرہ کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عرق ریزی کےساتھ عرق گلاب کا استعمال جاری رہنا چاہیے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll