Advertisement
علاقائی

کیا سپر پاور امریکہ بھی پاکستان کیطرح دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔۔؟

رضوان حیدر سہوصاحب معروف کالم نگار و صحافی ہیں۔ بڑے اداروں میں اپنی صحافتی خدمات ادا کر چکے ہیں۔ آپ کا تعلق مظفرگڑھ سے ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Feb 1st 2023, 4:25 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
کیا سپر پاور امریکہ بھی پاکستان کیطرح دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔۔؟

آخر کب تک۔۔؟
تحریر: رضوان حیدر
کیا سپر پاور امریکہ بھی پاکستان کیطرح دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔۔؟ تو اسکا جواب ہاں میں بھی ہو سکتا ہے اور نہ میں بھی۔۔ اگر امریکہ نے اپنے اخراجات پر کنٹرول نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ امریکہ جیسا سپر پاور ملک  بھی دیوالیہ ہوجائے۔ اور پاکستان تو قرض لینے میں امریکہ سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔۔ ابھی بھی وہ آئی ایم ایف کی خواہشات پر عوامی مشکلات میں کمی کی بجائے بجلی گیس، پٹرول کی قیمتوں اور عوام پر مزیر بوجھ ڈالنے کیے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرتا جا رہا ہے لیکن اخراجات کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔۔

اور اگر امریکہ کی بات ہو تو سننے میں آیا ہے کہ جوبائیڈن حکومت کو بھی مزید قرض درکار ہے لیکن  قرضوں کے بوجھ تلے دبے امریکہ کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کے پیش نظر  اپوزیشن جماعت کے نو منتخب اسپیکر کیون میکارتھی نے بلآخر صدر جوبائیڈن سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا ہے۔انہوں نے موجودہ حکومت کو خبردار کیا کہ حکومت اپنے اخراجات کی مد میں سالانہ جمع کیے گئے ٹیکس سے زیادہ خرچ نہیں کر سکتی اسی لیے قرضوں کی حد کا مقرر ہونا ضروری ہے۔۔انکا کہنا تھا کہ حکومتی اخراجات جون میں 31.4ٹریلین ڈالر یعنی 3140 کھرب ڈالر کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔۔جوبائیڈن انتظامیہ کو اخراجات میں مزید اضافہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرانا ہو گی۔۔


دوسری طرف پاکستان کے معاشی حالات بھی ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب تر پہنچا چکے ہیں سال 2022 کے آخری 8 ماہ کے دوران پاکستان کے سیاسی اور معاشی تناؤ میں اس قدر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ ختم ہونے کا نام بھی نہیں لے رہا۔۔ اور اگر بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ میں کمی نہ لائی گئی تو ملک کو دیوالیہ ہونے سے نہ تو آئی ایم ایف روک سکے گااور نہ ہی ایٹم بم۔۔۔ امریکہ جسے سپر پاور کہا جاتا ہے اس نے بھی اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے اگر وہ مزاہمت کی بجائے مفاہمت کی پالیسی کو اپنا کر مزاکرات تک پہنچ سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟۔

امریکہ پر 3140کھرب ڈالر کے قرضوں کا بوجھ ہے لیکن اگر  پاکستان کے جی ڈی پی پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ورلڈ بنک کے مطابق گزشتہ 2 سالوں 2020 سے 2022 تک  گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی)میں 300 ارب ڈالر سے 348.26ارب ڈالر تک کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اور رواں مالی سال اس میں مزید 2فیصد اضافہ بھی ہو چکا ہے۔۔اور یہ اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور  زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل کمی کے باعث ہے۔۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا پاکستان کی موجودہ حکومت اور اپوزیشن بھی امریکہ کی طرح مزاہمتی پالیسی کو چھوڑ کر مفاہمتی پالیسی اپنائے گا یا نہیں۔۔؟

میرے خیال میں تو ایسا نہیں لگ رہا کیونکہ 2023 کو الیکشن کا سال قرار دیا گیا ہے اور حکومت نہ تو الیکشن کرنے کے موڈ میں نظر آتی ہے اور نہ ہی معاشی صورتحال کو کنٹرول کرتی نظر آ رہی ہے۔۔اور یہ واضح ہے کہ موجودہ حکومت سے معاشی صورتحال کنٹرول ہوتی بھی نظر نہیں آ رہی۔۔ اگر ان حالات میں جنرل الیکشن کرائے بھی جائیں تو پی ڈی ایم کو دوبارہ حکومت بنانے کے لیے واضح برتری نظر نہیں آ رہی۔۔ اس لیے وہ انتقامی کارروائیوں میں اپوزیشن کو الجھائے رکھنے میں مصروف ہے جب تک آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری نہیں آ جاتی۔۔۔ 


ملک کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہم آج بھی کسی معجزہ کی تلاش میں ہیں اور ہماری نظریں آج بھی آئی ایم ایف کی طرف دیکھ رہی ہیں۔۔ کیونکہ بحرانوں سے گھرے پاکستان کے لیے اب وہی نجات دہندہ ہے جو ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے گا۔۔ اگر سوال کیا جائے کہ اس ملک کو اس حد تک لانے کا کون ذمہ دار ہے تو یقین جانیں کوئی مائی کا لعل اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔۔ اور جواب میں الزامات کا نہ ٹوٹنے والا سلسلہ جاری ہو جائیگا اور نتیجہ وہی۔۔۔ نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے۔۔ ہماری سیاسی جماعتیں پاکستان پر حکومت کرنے کے لیے اس قدر دست و گریبان ہیں جیسے زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر قبضہ مافیا لڑتے ہیں۔۔ طاقتور طبقہ کمزور طبقے کو اژدھا بن کر نگلتا جا رہا ہے۔ 


نہ جانے کب پاکستان کی حالت بدلے گی۔۔ کب یہ ملک خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا۔۔ کب اس ملک کے دہقان کو دو وقت کی روٹی میسر ہو گی۔۔کب اس ملک میں امن اور انصاف کابول بالا ہو گا۔۔ کب یہ ملک سکول، کالجز اور مساجد میں دہشتگری سے آزاد ہونگے۔۔ کب اس ملک دھرتی سونا اگلے گی۔۔  نہ جانے کب قرضوں سے چھٹکارہ ملے گا اور کب آئی ایم ایف سے جان چھوٹے گی۔۔  کب پانی بجلی ، گیس اور سستا پٹرول عوام کو ملنا شروع ہوگا۔۔ نہ جانے کب ڈالر 120 پر آئے گا اور کب تک سونا عام آدمی کے سونے کا سبب بنے گا۔۔آخر کب تک ہم یہی رونا روتے رہیں گے۔۔؟

Advertisement
خریداروں کیلئے خوشخبری، سونا یکدم کئی ہزار روپے سستا ہو گیا،نئی قیمت کیا ہو گئی؟

خریداروں کیلئے خوشخبری، سونا یکدم کئی ہزار روپے سستا ہو گیا،نئی قیمت کیا ہو گئی؟

  • an hour ago
فیفا ورلڈکپ: کولمبیا نے اُزبکستان کو 1 کے مقابلے میں 3 گول سے شکست دے دی

فیفا ورلڈکپ: کولمبیا نے اُزبکستان کو 1 کے مقابلے میں 3 گول سے شکست دے دی

  • a day ago
قیام امن میں پاکستان کا تاریخی کردار،طاہر اشرفی کا خطبہ جمہ میں عسکری و سول قیادت کو زبردست خراجِ تحسین

قیام امن میں پاکستان کا تاریخی کردار،طاہر اشرفی کا خطبہ جمہ میں عسکری و سول قیادت کو زبردست خراجِ تحسین

  • an hour ago
ورلڈ کپ کے دوران سفری پابندیاں،ایرانی فٹبال فیڈریشن کا فیفا سے رجوع کرنے کا اعلان

ورلڈ کپ کے دوران سفری پابندیاں،ایرانی فٹبال فیڈریشن کا فیفا سے رجوع کرنے کا اعلان

  • an hour ago
وزیر اعظم شہباز شریف کا پیٹرول کی قیمت میں خاطر خواہ کمی کرنے کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف کا پیٹرول کی قیمت میں خاطر خواہ کمی کرنے کا اعلان

  • 2 hours ago
وزیراعظم نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری عوام کو منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے:علی پرویز

وزیراعظم نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری عوام کو منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے:علی پرویز

  • 21 hours ago
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سوشل میڈیا پر جاری کردیں

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سوشل میڈیا پر جاری کردیں

  • an hour ago
 اسلام آباد مفاہمتی یادداشت انتھک محنت، استقامت اور غیر متزلزل عزم کی وجہ سے ممکن ہوئی،وزیر اعظم 

 اسلام آباد مفاہمتی یادداشت انتھک محنت، استقامت اور غیر متزلزل عزم کی وجہ سے ممکن ہوئی،وزیر اعظم 

  • 2 hours ago
طالبان رجیم کا کے پی اوربلوچستان میں مبینہ داعش کیمپس کو ڈرونز سے نشانہ بنانےکا پروپیگنڈا بے نقاب

طالبان رجیم کا کے پی اوربلوچستان میں مبینہ داعش کیمپس کو ڈرونز سے نشانہ بنانےکا پروپیگنڈا بے نقاب

  • an hour ago
ایران، امریکہ معاہدہ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر مثبت اثرات، ایک لاکھ 81 ہزار کی بلند سطح بحال

ایران، امریکہ معاہدہ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر مثبت اثرات، ایک لاکھ 81 ہزار کی بلند سطح بحال

  • a day ago
مشکل وقت میں پاکستان کی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران ہمیشہ یاد رکھے گا، ایرانی صدر

مشکل وقت میں پاکستان کی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران ہمیشہ یاد رکھے گا، ایرانی صدر

  • 21 hours ago
صدر ٹرمپ اور صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرنے کی تصاویر اور ویڈیو جاری

صدر ٹرمپ اور صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرنے کی تصاویر اور ویڈیو جاری

  • a day ago
Advertisement