رضوان حیدر سہوصاحب معروف کالم نگار و صحافی ہیں۔ بڑے اداروں میں اپنی صحافتی خدمات ادا کر چکے ہیں۔ آپ کا تعلق مظفرگڑھ سے ہے۔


آخر کب تک۔۔؟
تحریر: رضوان حیدر
کیا سپر پاور امریکہ بھی پاکستان کیطرح دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔۔؟ تو اسکا جواب ہاں میں بھی ہو سکتا ہے اور نہ میں بھی۔۔ اگر امریکہ نے اپنے اخراجات پر کنٹرول نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ امریکہ جیسا سپر پاور ملک بھی دیوالیہ ہوجائے۔ اور پاکستان تو قرض لینے میں امریکہ سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔۔ ابھی بھی وہ آئی ایم ایف کی خواہشات پر عوامی مشکلات میں کمی کی بجائے بجلی گیس، پٹرول کی قیمتوں اور عوام پر مزیر بوجھ ڈالنے کیے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرتا جا رہا ہے لیکن اخراجات کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔۔
اور اگر امریکہ کی بات ہو تو سننے میں آیا ہے کہ جوبائیڈن حکومت کو بھی مزید قرض درکار ہے لیکن قرضوں کے بوجھ تلے دبے امریکہ کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کے پیش نظر اپوزیشن جماعت کے نو منتخب اسپیکر کیون میکارتھی نے بلآخر صدر جوبائیڈن سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا ہے۔انہوں نے موجودہ حکومت کو خبردار کیا کہ حکومت اپنے اخراجات کی مد میں سالانہ جمع کیے گئے ٹیکس سے زیادہ خرچ نہیں کر سکتی اسی لیے قرضوں کی حد کا مقرر ہونا ضروری ہے۔۔انکا کہنا تھا کہ حکومتی اخراجات جون میں 31.4ٹریلین ڈالر یعنی 3140 کھرب ڈالر کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔۔جوبائیڈن انتظامیہ کو اخراجات میں مزید اضافہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرانا ہو گی۔۔
دوسری طرف پاکستان کے معاشی حالات بھی ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب تر پہنچا چکے ہیں سال 2022 کے آخری 8 ماہ کے دوران پاکستان کے سیاسی اور معاشی تناؤ میں اس قدر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ ختم ہونے کا نام بھی نہیں لے رہا۔۔ اور اگر بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ میں کمی نہ لائی گئی تو ملک کو دیوالیہ ہونے سے نہ تو آئی ایم ایف روک سکے گااور نہ ہی ایٹم بم۔۔۔ امریکہ جسے سپر پاور کہا جاتا ہے اس نے بھی اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے اگر وہ مزاہمت کی بجائے مفاہمت کی پالیسی کو اپنا کر مزاکرات تک پہنچ سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟۔
امریکہ پر 3140کھرب ڈالر کے قرضوں کا بوجھ ہے لیکن اگر پاکستان کے جی ڈی پی پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ورلڈ بنک کے مطابق گزشتہ 2 سالوں 2020 سے 2022 تک گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی)میں 300 ارب ڈالر سے 348.26ارب ڈالر تک کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اور رواں مالی سال اس میں مزید 2فیصد اضافہ بھی ہو چکا ہے۔۔اور یہ اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل کمی کے باعث ہے۔۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا پاکستان کی موجودہ حکومت اور اپوزیشن بھی امریکہ کی طرح مزاہمتی پالیسی کو چھوڑ کر مفاہمتی پالیسی اپنائے گا یا نہیں۔۔؟
میرے خیال میں تو ایسا نہیں لگ رہا کیونکہ 2023 کو الیکشن کا سال قرار دیا گیا ہے اور حکومت نہ تو الیکشن کرنے کے موڈ میں نظر آتی ہے اور نہ ہی معاشی صورتحال کو کنٹرول کرتی نظر آ رہی ہے۔۔اور یہ واضح ہے کہ موجودہ حکومت سے معاشی صورتحال کنٹرول ہوتی بھی نظر نہیں آ رہی۔۔ اگر ان حالات میں جنرل الیکشن کرائے بھی جائیں تو پی ڈی ایم کو دوبارہ حکومت بنانے کے لیے واضح برتری نظر نہیں آ رہی۔۔ اس لیے وہ انتقامی کارروائیوں میں اپوزیشن کو الجھائے رکھنے میں مصروف ہے جب تک آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری نہیں آ جاتی۔۔۔
ملک کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہم آج بھی کسی معجزہ کی تلاش میں ہیں اور ہماری نظریں آج بھی آئی ایم ایف کی طرف دیکھ رہی ہیں۔۔ کیونکہ بحرانوں سے گھرے پاکستان کے لیے اب وہی نجات دہندہ ہے جو ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے گا۔۔ اگر سوال کیا جائے کہ اس ملک کو اس حد تک لانے کا کون ذمہ دار ہے تو یقین جانیں کوئی مائی کا لعل اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔۔ اور جواب میں الزامات کا نہ ٹوٹنے والا سلسلہ جاری ہو جائیگا اور نتیجہ وہی۔۔۔ نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے۔۔ ہماری سیاسی جماعتیں پاکستان پر حکومت کرنے کے لیے اس قدر دست و گریبان ہیں جیسے زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر قبضہ مافیا لڑتے ہیں۔۔ طاقتور طبقہ کمزور طبقے کو اژدھا بن کر نگلتا جا رہا ہے۔
نہ جانے کب پاکستان کی حالت بدلے گی۔۔ کب یہ ملک خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا۔۔ کب اس ملک کے دہقان کو دو وقت کی روٹی میسر ہو گی۔۔کب اس ملک میں امن اور انصاف کابول بالا ہو گا۔۔ کب یہ ملک سکول، کالجز اور مساجد میں دہشتگری سے آزاد ہونگے۔۔ کب اس ملک دھرتی سونا اگلے گی۔۔ نہ جانے کب قرضوں سے چھٹکارہ ملے گا اور کب آئی ایم ایف سے جان چھوٹے گی۔۔ کب پانی بجلی ، گیس اور سستا پٹرول عوام کو ملنا شروع ہوگا۔۔ نہ جانے کب ڈالر 120 پر آئے گا اور کب تک سونا عام آدمی کے سونے کا سبب بنے گا۔۔آخر کب تک ہم یہی رونا روتے رہیں گے۔۔؟

پاکستان کے نامور اداکار خالد حفیظ خان انتقال کرگئے
- 20 hours ago

سی ٹی ڈی کی پشین میں کارروائی ، 10 خارجی دہشتگرد جہنم واصل
- 20 hours ago

حکومت قومی و اقتصادی ترقی کے لیے نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے،شہباز شریف
- 15 hours ago

نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانے کے لیے موثر اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- 21 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 18 hours ago

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزراءکی اے آئی ٹریننگ ، وزیراعلیٰ مریم نواز نے خود لیڈ کیا
- 21 hours ago

آئی ایس پی آر کی جانب سے افواجِ پاکستان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے شاندار نغمہ ریلیز
- 21 hours ago

سانحہ گل پلازہ: سندھ کابینہ نے شہدا ءکے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی
- 20 hours ago

وزیراعظم سے چیئرمین قومی احتساب بیورو کی ملاقات،مصنوعی ذہانت ، ای آفس نظام، نیب کی کارکردگی کوسراہا
- 15 hours ago

تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا،کے پی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج اور آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے،وزیر دفاع
- 18 hours ago

انڈر 19 ورلڈ کپ:پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 8 وکٹوں سے ہرا دیا،قومی ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان
- 16 hours ago

وزیراعظم سے میانمار کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دیرینہ تعلقات مضبوط بنانے کا عزم
- 20 hours ago












