Advertisement
پاکستان

ملک بدر کرنے کی پالیسی پاکستان میں مقیم صرف غیر قانونی افغان شہریوں کے لئے مخصوص نہیں،انوارلحق کاکڑ

نگران وزیر اعظم انوار لحق کا کڑ نے کہا کہ حکومت کی پالیسی اور متعلقہ قوانین کے مطابق تمام غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکیوں کو پاکستان کی سرزمین سے واپس بھیجا جارہا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Oct 31st 2023, 2:59 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
ملک بدر کرنے کی پالیسی پاکستان میں مقیم صرف غیر قانونی افغان شہریوں کے لئے مخصوص نہیں،انوارلحق کاکڑ

نگران وزیر اعظم انوار لحق کا کڑ نے کہا کہ حکومت کی پالیسی اور متعلقہ قوانین کے مطابق تمام غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکیوں کو پاکستان کی سرزمین سے واپس بھیجا جارہا ہے۔یہ پالیسی پاکستان میں مقیم صرف غیر قانونی افغان شہریوں کے لئے مخصوص نہیں بلکہ یہ ان تمام غیر ملکیوں پر لاگو ہوتی ہے جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں، قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے،ہمیں ایک دوسرے کے سیاسی نظریات کا احترام کرنا چاہئے،انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا، نگراں حکومت معاونت کرے گی۔

سوموار کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے طالب علموں کے ساتھ خصوصی نشست کے دوران وزیراعظم نےکہا کہ افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر نہیں کیا جا رہا بلکہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ دنیا بھرکا یہ اصول ہے کہ کوئی بھی ملک بغیر دستاویزات اور پاسپورٹ کے کسی غیر ملکی کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دیتا ۔


وزیر اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان نے چالیس سال تقریبا 50 ملین افغان شہریوں کی میزبانی کی۔ انہوں نے کہاکہ دس لاکھ غیر ملکیوں کی شناخت ہوئی ہے جو قانونی اور مستند دستاویزات کے بغیر پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ایسے غیر ملکیوں کو واپس ان کے وطن واپس جانے کےلئے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، اگر وہ درکار قانونی دستاویزات اور مستند ویزے کے ساتھ پاکستان واپس آتے ہیں تو ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا فیصلہ قومی سطح پر کیا گیا ہے جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل تھی کیونکہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی مختلف قسم کی جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے جس کا ادراک سب کو تھا مگر پہلے اس بارے میں نہیں سوچا گیا ۔افغان شہریوں سے متعلق پیش آنے والے ایک واقعہ کے بارےمیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزارت داخلہ کے متعلقہ حکام کو ہدایات دی ہیں کہ خواتین اور بچوں کو باعزت طریقے سے ان کے وطن واپس بھیجا جائے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متعدد دہشت گردانہ واقعات میں مخصوص گروہ ملوث ہیں ، بعض گروپوں کا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونا مسئلہ کا حصہ ہے ، انہوں نے اس حوالے سے خیبر پختونخوا میں مسجد میں خودکش حملہ کا حوالہ دیا جس کے خود کش بمبار کی شناخت ڈی این اے سے افغان شہری کے طور پر ہوئی تھی.

Advertisement