Advertisement
پاکستان

پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان

ہفتہ وار 800 پروازیں متاثر، طویل متبادل روٹس سے آپریشنل اخراجات ناقابلِ برداشت ہونے لگے

GNN Web Desk
شائع شدہ 39 minutes ago پر Aug 22nd 2026, 2:53 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئر لائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان

واصف محمود سے

لاہور: پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایئر لائنز کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ دو ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان برداشت کرنے کے بعد بھارت کی پانچ بڑی ایئر لائنز، جن میں ایئر انڈیا، انڈیگو ایئر، ایئر انڈیا ایکسپریس، اکاسا ایئر اور اسپائس جیٹ شامل ہیں، کے لیے برطانیہ، یورپ، امریکا سمیت دیگر ممالک کے لیے فضائی آپریشن جاری رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

رہی سہی کسر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ نے پوری کردی ہے۔ پاکستان کی فضائی حدود سے روزانہ گزرنے والی تقریباً 115 پروازیں یا تو بند ہوگئی ہیں یا متبادل طویل فضائی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث بھارتی ایئر لائنز کے اضافی آپریشنل اخراجات ناقابلِ برداشت ہوگئے ہیں۔ ری فیولنگ، لینڈنگ، ٹیک آف اور پارکنگ چارجز کی مد میں بھی انہیں اضافی ادائیگیاں ڈالروں اور یورو میں کرنا پڑ رہی ہیں۔

جی این این ویب سائٹ کو پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور ورلڈ فلائٹ انفارمیشن سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 24 اپریل 2025 کو پہلگام واقعے کے بعد بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی تھیں۔ یہ پابندی آئندہ ماہ 24 ستمبر 2026 تک برقرار ہے، جبکہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ہر ماہ بھارتی ایئر لائنز کے لیے پابندی کی مدت میں توسیع کرتی ہے۔

پابندی کے باعث تقریباً 800 ہفتہ وار پروازیں متاثر ہورہی ہیں، جن میں سب سے زیادہ متاثر دہلی کا اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہے، جہاں سے ہفتہ وار 640 پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں امریکا، برطانیہ، فرینکفرٹ، استنبول اور الماتی جانے والی پروازیں شامل ہیں۔

نقصان اٹھانے والی ایئر لائنز میں سب سے زیادہ متاثر ایئر انڈیا ہے، جس کے بعد انڈیگو ایئر، ایئر انڈیا ایکسپریس، اکاسا ایئر اور اسپائس جیٹ شامل ہیں۔

پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد بھارتی ایئر لائنز نے ایران اور خلیجی ممالک کی فضائی حدود کے ذریعے متبادل راستے اختیار کرنا شروع کیے، جس کے باعث برطانیہ اور یورپ جانے والی پروازوں کے سفر میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹے جبکہ امریکا اور کینیڈا جانے والی پروازوں میں تقریباً تین گھنٹے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

طویل پروازوں کے لیے بھارتی ایئر لائنز کو ویانا میں ری فیولنگ کے لیے رکنا پڑتا ہے، جس کے باعث لینڈنگ اور ٹیک آف چارجز کے ساتھ پارکنگ فیس بھی ڈالروں اور یورو میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ سفر کے دورانیے میں اضافے کے باعث فضائی میزبانوں کو بھی اضافی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے، جس کے اضافی اخراجات بھی ایئر لائنز کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

بھارت کی بڑی ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو بھارتی ایئر لائنز کو رواں سال مزید 600 ملین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے، جس کے بعد ان کے لیے فضائی آپریشن برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث متبادل فضائی راستوں کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بھی بھارتی ایئر لائنز کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ کررہی ہے۔ بھارت کی وہ ایئر لائنز جن کے طیارے ہمیشہ فضاؤں میں محوِ پرواز رہتے تھے، اب اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی ایئر لائنز کو بھارتی فضائی حدود کی بندش سے اتنا نقصان نہیں پہنچا، کیونکہ پاکستان کی صرف چھ پروازیں ملائیشیا یا تھائی لینڈ جاتے ہوئے بھارتی فضائی حدود استعمال کرتی تھیں، جنہیں اب متبادل راستوں سے آپریٹ کیا جارہا ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق بھارت کی تمام ایئر لائنز، بشمول فوجی اور کارگو طیاروں، پر فضائی حدود کے استعمال کی پابندی آئندہ ماہ ستمبر تک برقرار ہے، جبکہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹم بھی جاری کردیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

Advertisement