اقوامِ متحدہ کی امداد کی ترسیل دوبارہ معطل ہونے سے ہزاروں بھوکے اور بے گھر فلسطینیوں کے مصائب مزید بڑھ گئے ہیں


جمعہ کو ایندھن کی قلت اور مواصلاتی بندش کی وجہ سے غزہ کو اقوامِ متحدہ کی امداد کی ترسیل دوبارہ معطل کر دی گئی جس سے ہزاروں بھوکے اور بے گھر فلسطینیوں کے مصائب مزید بڑھ گئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کی انکلیو میں حماس کے عسکریت پسندوں سے لڑائی جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا کہ خوراک کی فراہمی کی کمی کی وجہ سے عام شہریوں کو فوری طور پر فاقہ کشی کے امکان کا سامنا ہے۔
مریضوں اور بے گھر لوگوں کی وجہ سے پرہجوم اور کام جاری رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا ہوا ہسپتال اس ہفتے عالمی تشویش کی ایک بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس نے اسلحہ اور گولہ بارود ذخیرہ کر رکھا ہے اور اس نے الشفاء جیسے ہسپتالوں کے نیچے سرنگوں کے نیٹ ورک میں یرغمالیوں کو رکھا ہوا ہے اور مریضوں اور وہاں موجود پناہ گزینوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے کہا کہ ایندھن کی قلت اور مواصلاتی بندش کی وجہ سے جمعہ کو سرحد پار سے کوئی امدادی کارروائی نہیں ہوئی، امدادی سامان کی تقسیم کے لیے ایندھن کی کمی کی وجہ سے جمعرات کو مسلسل دوسرے دن کوئی امدادی ٹرک غزہ نہیں پہنچا۔ ڈبلیو ایف پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی میک کین نے کہا کہ تقریباً پوری آبادی کو خوراک کی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا، "غزہ میں خوراک اور پانی کی سپلائی عملاً نہ ہونے کے برابر ہے اور اشد ضروری امداد کا صرف ایک حصہ سرحدوں سے پہنچ رہا ہے۔ میک کین نے کہا کہ موسم سرما کے تیزی سے قریب آنے، غیر محفوظ اور پرہجوم پناہ گاہوں اور صاف پانی کی کمی کے باعث شہریوں کو فاقہ کشی کے فوری امکان کا سامنا ہے۔
جنگ اپنے ساتویں ہفتے میں داخل ہونے والی ہے اور بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی یا کم از کم انسانی بنیادوں پر تؤقف کے مطالبات کے باوجود کسی بھی طرح اس کے تھمنے کے آثار نظر نہیں آتے۔ یہ تنازعہ 7 اکتوبر کو حماس کے عسکریت پسندوں کے سرحد پار چھاپے سے شروع ہوا تھا جس میں ریاست کی 75 سالہ تاریخ کے خطرناک ترین دن میں تقریباً 1,200 اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق 11 ہزار سے زیادہ فلسطینی جن میں سے کم از کم 4,700 بچے ہیں، اب تک حماس کے زیرِ اقتدار غزہ پر اسرائیل کے جوابی فوجی حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں - یہ تعداد حالیہ برسوں میں تنازعات کی گذشتہ جھڑپوں کے ہلاک شدگان سے کہیں زیادہ ہے۔

27 ویں آئینی ترمیم پر انسانی حقوق کمشنر کا بیان زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا، دفتر خارجہ کا ردعمل
- 7 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
الیکشن کمیشن نے ہری پور ضمنی انتخابات کو متنازع بنانے کے الزامات کوبے بنیاد قرار دے دیا
- 7 hours ago

ایف سی ہیڈ کوارٹرز خودکش دھماکا: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق ہو گئی
- 8 hours ago

خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی تجویز زیر غور
- 4 hours ago

منشیات کی سمگلنگ پختونخوا حکومت کی زیرنگرانی ہوتی ہے جس کا پیسہ دہشتگردی میں استعمال ہوتا ہے،عطا تارڑ
- 6 hours ago

کُرم:دہشتگردوںکا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ ، جوابی کارروائی میں 4 خارجی جہنم واصل،دو اہلکار شہید
- an hour ago

چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کا نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائے گا،وزیر دفاع
- 4 hours ago

اسحاق ڈار سے مصری ہم منصب کی ملاقات، دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
- 8 hours ago

پشاور:وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا این ایف سی ایوارڈ کی میٹنگ میں شرکت کا اعلان
- 2 hours ago

آئی سی آر سی اور میڈیا ان لیمیٹڈ کے اشتراک سے صحافیوں کے لیے دو روزہ 'ہیومینیٹیرین رپورٹنگ' ورکشاپ کا انعقاد
- a day ago
سٹڈنی: دوران پروازدو طیارے آپس میں ٹکرا گئے،پائلٹ جاں بحق
- 6 hours ago

گلوکار ساحر علی بگا کا گانا ’’مستانی‘‘ مقبول ہو گیا
- 8 hours ago










