طالبان رجیم کے باعث خطے میں شدت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ پرامریکی جریدے کی رپورٹ سامنے آگئی
افغانستان سے پھیلتے ہوئے خطرات نہ صرف عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف اب تک حاصل کی گئی کامیابیوں کو بھی شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے،رپورٹ


کابل: امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان رجیم خطے میں شدت پسندی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہی ہے جس کے باعث علاقائی اور عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے زیرِ اثر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے سرحد پار حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ کے مطابق افغان طالبان کے زیرِ سایہ سرگرم دہشت گرد گروپس پاکستان اور تاجکستان کی سرزمین پر حملے کر رہے ہیں جبکہ چینی مفادات کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد مدرسوں کی تعداد 13 ہزار سے بڑھ کر 23 ہزار ہو گئی ہے جبکہ مدرسہ طلبہ کی تعداد بھی 15 لاکھ سے بڑھ کر 30 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔
شائع رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مغربی ممالک اب بھی طالبان رجیم کو ایک سیکیورٹی خطرے کے بجائے محض ایک اخلاقی مسئلہ سمجھ رہے ہیں اور بظاہر اس بات پر مطمئن دکھائی دیتے ہیں کہ افغانستان سے ان کی اپنی سرزمین پر حملے نہیں ہو رہے۔
نیشنل انٹرسٹ کے مطابق انسانی امداد کے نام پر طالبان رجیم کو ہفتہ وار نقد رقوم فراہم کی جا رہی ہیں جو شدت پسند نیٹ ورکس کے استحکام کا باعث بن سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین سے جڑی دہشت گردی میں اضافے کے باعث پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں افغانستان سے تاجکستان میں ڈرون حملوں اور فائرنگ کے واقعات کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن میں متعدد چینی شہری ہلاک ہوئے اور چینی مفادات کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔
نیشنل انٹرسٹ کے مطابق ترکستان اسلامک پارٹی کی افغانستان میں موجودگی چین کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے جس پر چین اور پاکستان نے طالبان سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان سے جڑا علاقائی بحران مغرب کے لیے بھی اہم ہے اور اگر اسے نظرانداز کیا گیا تو شدت پسند نیٹ ورکس مزید منظم ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان سے پھیلتے ہوئے خطرات نہ صرف عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف اب تک حاصل کی گئی کامیابیوں کو بھی شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔
گوگل میپس نے 3 نئے اے آئی فیچرز متعارف کرا دیے
- 16 گھنٹے قبل
نئی آئی سی سی پلیئرز رینکنگ: ون ڈے بیٹرز میں بابراعظم کا چھٹا نمبر
- 21 گھنٹے قبل
وزیر خارجہ کی امریکی ناظم الامور نیتالی بیکر سے ملاقات،قیام امن اور جنگ میں توسیع کی تجویز
- 2 دن قبل

سی ٹی ڈی کی کراچی میں کامیاب کارروائی،کالعدم تنظیم کے متعدد کارندے گرفتار
- 2 دن قبل
مایہ نازمزاحیہ اداکار معین اختر کی آج پندرہویں برسی منائی جا رہی ہے
- ایک دن قبل

اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کیلئے ایرانی جواب کا تاحال انتظار ہے،عطا تارڑ
- 2 دن قبل
.jpg&w=3840&q=75)
پنجاب حکومت کا مہلک بیماریوں سے بچاؤ کیلئے صوبے بھر میں آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ
- 2 دن قبل

امریکا کے ساتھ مجوزہ مذاکرات میں شرکت کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا،ایران
- 2 دن قبل

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
- 2 دن قبل
اپنے اثر و رسوخ کو ایشیا و بحرالکاہل کے خطے تک پھیلانے کی کوششیں نیٹو کو زوال سے نہیں بچا سکیں گی، چینی اخبار
- 21 گھنٹے قبل

پاکستان اور ایران کاعلاقائی استحکام کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق
- ایک دن قبل
.jpg&w=3840&q=75)
جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتا،ایران کے پاس معاہدے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے،ٹرمپ
- 2 دن قبل











