پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،پشاور ہائی کورٹ کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار
کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل رہے گا، عدالت

.jpg&w=3840&q=75)
پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا،
تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لینے کا فیصلہ بھی معطل کر دیا گیا، کیس کا فیصلہ معطل ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل رہے گا۔
جسٹس کامران حیات میاں خیل نے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکلاء علی ظفر، بیرسٹر گوہر خان اور بابر اعوان پیش ہوئے۔
پشاور ہائی کورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان بلا واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کر دیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے گا۔ ایک پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ درخواسست گزار وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں۔ انتخابی نشان الاٹ کرنے کی آخری تاریخ 13 جنوری ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے، پی ٹی آئی کو کہا گیا کہ 20 دن کے اندر انتخابات کرائیں، 3 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کرائے گئے، الیکشن کمیشن نے مانا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے ہیں، انٹرا پارٹی انتخابات پشاور میں ہوئے، الیکشن کمیشن نے انتخابات کے بارے میں کہا کہ ٹھیک ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن نے سرٹیفکیٹ بھی دے دیا، الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات ہوئے لیکن جس نے کرائے وہ ٹھیک نہیں ہے، الیکشن کمشنر پر اعتراض آ گیا اور ہمارے انتخابات کالعدم قرار دیئے گئے۔
وکیل علی ظفر نے مزید کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بیٹ واپس لے لیا ہے، اب ہم انتخابات میں سیاسی جماعت کی حیثیت سے حصہ نہیں لے سکتے، مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعت کو بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتیں، ایک سیاسی جماعت کو عام انتخابات سے باہر کر دیا گیا، انتخابی نشان سے متعلق سمبل کیس کے نام پر سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے صرف انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض نہیں کیا، آئین کا آرٹیکل 17 کہتا ہے کہ ہر کسی کو ایسوسی ایشن اور یونین بنانے کا حق ہے، یونین اور ایسوسی ایشن کے پاس اپنے عہدیدار منتخب کرنے کا حق ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو جنرل سیکرٹری نے کیسے تعینات کیا۔
پی ٹی آئی وکیل کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کے بعد 7 دنوں میں پارٹی سربراہ الیکشن کمیشن کو سرٹیفکیٹ دے گا، الیکشن ایکٹ میں بھی نہیں لکھا کہ انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن کمیشن کالعدم قرار دے سکتا ہے، سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن 7 دنوں میں ویب سائٹ پر پبلش کرے گا، شق 215 کے تحت جب پارٹی سرٹیفکیٹ جاری ہوتا ہے تو وہ انتخابی نشان کے لیے اہل ہو جاتی ہے۔

ملک میں سونا مزید سستا ہو گیا
- 3 days ago
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار
- 2 days ago

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 5 days ago
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 3 days ago
پاکستان میں نیا شناختی کارڈ متعارف
- 3 days ago

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- 2 days ago

علی ظفر کی عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی
- 2 days ago

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 5 days ago
نوجوانوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری سے جوڑنے کا عملی قدم
- a day ago
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- 2 days ago

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 5 days ago
الخدمت کیطرف سے اجتماعی شادی کی تقریب، 60 گھر آباد ہوں گے
- 3 days ago


