چین کے ساتھ مل کر افغانستان کی تعمیرِنو میں کردار ادا کرسکتے ہیں، شاہ محمود
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور اس سلسلے میں افغان معاملے پر پاکستان، چین اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس آج ہوگا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا کہ ہماری اولین ترجیح افغانستان میں امن ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، چین اور افغانستان کا سہ فریقی ورچوئل اجلاس آج افغان معاملے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین مل کر امن کے قیام کے بعد افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جیو اکنامک ہماری حکومت کی ترجیح ہے اور ہم پاکستان کو معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اس سلسلے میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے اور گوادر پورٹ اہم کردار ادا کریں گے۔
خیال رہے کہ سہ فریقی اجلاس سے قبل پاکستان نے امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے اس تشویش کا اظہار ایسے وقت پر کیا گیا جب متحارب افغان گروہوں کے مابین کامیاب مفاہمت کے پہلے سے ہی کم امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ مدھم ہوتے جارہے ہیں۔
اگرچہ آئندہ چند روز میں بین الافغان مذاکرات کا ایک اور دور ہونے والا ہے لیکن پاکستانی حکام کسی اہم پیشرفت کے حوالے سے زیادہ پُرامید نظر نہیں آتے۔
اس ضمن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے ولیسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمٰن رحمانی سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ 'اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا کر افغانستان اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایک جامع، ٹھوس اور وسیع تر سیاسی تصفیے پر کام کریں'۔
گزشتہ برس ستمبر میں شروع ہونے والے امن مذاکرات میں اصولوں اور طریقہ کار کے بارے میں سمجھوتے اور وہ بھی جو معمولی امور پر مہینوں تک بحث کے بعد حاصل ہوا، کے علاوہ معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر جو بائیڈن کے منصب سنبھالنے کے بعد امریکا کی جانب سے طالبان سے 2019 کے معاہدے پر نظرثانی کے اعلان اور امریکی افواج کے انخلا کے لیے 11 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے سے یہ تعطل مزید بڑھ گیا۔
پاکستان اور بین الاقوامی برادری نے دونوں فریقین کو تنازع ختم کرنے کے لیے بقیہ مسائل پر بات چیت کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی متعدد کوششیں کیں لیکن اب تک کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔
اس ضمن میں ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست پر بتایا تھا کہ پاکستان نے دیگر چیزوں کے علاوہ عبوری حکومت پر زور دیا تھا لیکن افغان صدر اشرف غنی کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ خیال زور نہ پکڑ سکا۔

عراقچی کی وانگ یی سے ملاقات ،چین نے ایران کے خلاف امریکا و اسرائیلی جنگ کو غیر قانونی قرار دے دیا
- an hour ago
چارسدہ میں جید عالم دین شیخ محمد ادریس کو شہید کر دیا گیا
- a day ago

سرچ فار جسٹس کے زیر اہتمام ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد،نوجوانوں کی بھرپور شرکت
- 26 minutes ago
اسلام آباد ہائی کورٹ نے یوٹیوبر رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا
- a day ago
اگرایران نےامریکی شرائط کو تسلیم نہ کیا تو فوجی کارروائی پہلے سے زیادہ شدید اور سخت ہو گی،ٹرمپ
- an hour ago

ٹرمپ کا پاکستان کی درخواست پر فوجی آپریشن ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو عارضی طور پرروکنے کا اعلان
- 3 hours ago
تمام اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مدمقابل 'بنیان مرصوص' کی مانند یکجا کھڑے ہیں: چیف آف ڈیفنس فورسز
- 21 hours ago

امریکا کی 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ایرانی وزرات خارجہ
- 3 hours ago

مہنگے سونے کی قیمت میں ایک دفعہ پھر ریکارڈ اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 3 hours ago
وزیراعظم کی قابل تجدید توانائی کے فروغ کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کی ہدایت
- 21 hours ago

پاکستان کی دعوت پر امریکا ایران کا ایک پلیٹ فارم پر آنا عالمی سطح پر اعتماد کا واضح ثبوت ہے، شہباز شریف
- an hour ago

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں پراجیکٹ فریڈم روک کر جرأت مندانہ قیادت کا مظاہرہ کیا،وزیر اعظم
- 3 hours ago




