Advertisement
پاکستان

عمران خان کا پارٹی لیڈر شپ اور وکلاء کو ملاقاتوں کی اجازت نہ دینے پر عدالت سے رجوع

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں وزارت داخلہ، ہوم سیکرٹری ، حکومت پنجاب کے ساتھ ، جیل سپرنٹنڈنٹ اور وزارت دفاع کو فریقین بنایا گیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jun 28th 2024, 4:12 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
عمران خان کا پارٹی لیڈر شپ اور  وکلاء کو ملاقاتوں کی اجازت نہ دینے پر عدالت سے رجوع

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی لیڈر شپ اور وکلاء کو ملاقاتوں و مشاورت کی اجازت نہ دینے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں وزارت داخلہ، ہوم سیکرٹری ، حکومت پنجاب کے ساتھ ، جیل سپرنٹنڈنٹ اور وزارت دفاع کو  فریقین  بنایا گیا۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سپرنٹنڈنٹ جیل وکلاء اور پارٹی لیڈرشپ سے ملاقات کی اجازت نہیں دیتے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے عمران خان سے مشاورت کی اجازت دی تھی۔فریقین کی بدنیتی کی وجہ سے وہ عمل بھی مکمل نہ ہوا، جیل میں اس پورے پراسس کو حساس ادارے کے اہلکار دیکھتے ہیں، سول انتظامیہ کے کام میں مداخلت کے باعث بانی پی ٹی آئی پارٹی لیڈر شپ سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کر پاتے۔

اسلام آباد ہائیکوٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کو جیل میں اسیری کے دوران دن میں 15 افراد سے ملاقات کی اجازت تھی جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اس حق سے محروم رکھا جارہا ہے۔

دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عمران خان کو جیل میں پارٹی لیڈر شپ سے مختلف امور پر مشاورت کی اجازت دی جائے، حساس اداروں کو سول انتظامیہ کے امور میں مداخلت سے روکا جائے۔

Advertisement
Advertisement