Advertisement
پاکستان

انٹرنیٹ بندش کیخلاف درخواست، عدالت کا وکیل کو ہدایات کیساتھ پیش ہونیکا حکم

حکومت کا انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ملک میں انٹرنیٹ کو فوری طور پر بحال کیا جائے، درخواست میں استدعا

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 سال قبل پر اگست 16 2024، 5:01 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
انٹرنیٹ بندش کیخلاف درخواست، عدالت کا وکیل کو ہدایات کیساتھ پیش ہونیکا حکم

لاہور :ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر سماعت ہوئی ہے۔ جسٹس شکیل احمد نے شہری ندیم سرور کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے وکیل کو متعلقہ اتھارٹیز سے ہدایات لیکر 12 بجے دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ حکومت نے بغیر کسی نوٹس کے اور کوئی وجہ بتائے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کو بند کر دیا ہے جس سے کاروبار اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انٹرنیٹ بند کرنا شہریوں کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور نوجوان آئی ٹی کے ذریعے اربوں روپے کا زرمبادلہ کما رہے ہیں اور انٹرنیٹ کی بندش سے ان کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کا انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ملک میں انٹرنیٹ کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس معاملے پر مزید معلومات جمع کر رہے ہیں اور جلد ہی عدالت کو آگاہ کریں گے۔

جسٹس شکیل احمد نے وفاقی حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ اتھارٹیز سے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ حاصل کریں اور 12 بجے دوبارہ عدالت میں پیش ہوں۔

 

Advertisement
Advertisement