Advertisement
پاکستان

عمران خان کی ذاتی معالج سے معائنے کا معاملے پر جیل حکام کا جواب غیر تسلی بخش قرار

آپ لوگوں کا رویہ قابل تعریف نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Oct 23rd 2024, 4:15 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
عمران خان کی ذاتی معالج سے معائنے کا معاملے پر جیل حکام کا  جواب غیر تسلی بخش قرار

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی شوکت خانم کے معالجین سے معائنے کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے جیل حکام اور اسٹیٹ کونسل کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔

میاں جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ”آپ لوگوں کا رویہ قابل تعریف نہیں۔“ انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ ”بانی پی ٹی آئی انڈرٹرائل قیدی ہیں، اور ہم نے جیل کے دورے کے دوران وہاں ڈاکٹروں کو دیکھا جو میرٹ پر بھی نہیں تھے۔“

عدالت نے جیل حکام سے وضاحت طلب کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ قیدیوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

اسٹیٹ کونسل نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے رپورٹ جمع کراتے ہوئے کہا کہ جیل میں طبی معائنہ کے لیے ڈاکٹرز موجود ہیں ، ہفتہ میں تین روز معائنہ ہوتاہے، ملاقاتوں پر25 اکتوبر تک پابندی عائد ہے، حکومت پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یہ پابندی لگائی گئی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی ہیں ، جنگوں میں بھی ڈاکٹروں کو معائنہ کی اجازت ہوتی ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسٹیٹ کونسل سے کہا کہ انکی درخواست کو دیکھیں ،آپ لوگوں کا رویہ قابل تعریف نہیں ہے ، میں اس پر آرڈر جاری کروں گا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کےلئے درخواست دائر کر دی گئی۔ متفرق درخواست میں عبوری ریلیف کی استدعا بھی شامل تھی۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر ثمینہ نیازی اور ای این ٹی ڈاکٹر کو فوری معائنے کی اجازت دی جائے۔بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو رسائی نہیں دی جا رہی۔

Advertisement