Advertisement
پاکستان

کم عمر لڑکی کی شادی کا قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج

یہ قانون قرآن مجید اور سنت کے خلاف ہے، لہٰذا  اس کو ختم کیا جائے، درخواست گزار

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jun 4th 2025, 1:56 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
کم عمر لڑکی کی شادی کا قانون  فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج

18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کے قانون کو فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ۔

شہری شہزادہ عدنان نے اپنے وکیل مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کی وساطت سے فیڈرل شریعت کورٹ میں درخواست دائر کی  ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شادی سے متعلق قانون قرآن اور حدیث کے خلاف بنایا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق چائلڈ میرج ریسٹرین بل 2025ء  خلاف آئین بنایا گیا۔ عدالت میں دائر درخواست میں قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیا گیا  ہے۔ مؤقف میں مزید کہا گیا ہے کہ شادی سے متعلق جو قانون بنایا گیا اس کی قید بامشقت سزا رکھی گی ہے، یہ سزا بھی خلافِ آئین ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ یہ قانون قرآن مجید اور سنت کے خلاف ہے، لہٰذا  اس کو ختم کیا جائے۔ ریاست کو اس قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے سے روکا جائے ۔

Advertisement