Advertisement
پاکستان

فتنہ الہندوستان کی جانب سے قتل 9 پنجابی مسافروں کی نعشیں آبائی علاقوں کو روانہ

 شہید کیے جانے والوں کا تعلق، لاہور، گجرات ، خانیوال، گوجرانولہ، لودھراں، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ سے ہے، کمشنر ڈی جی خان

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 11th 2025, 12:58 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
فتنہ الہندوستان  کی جانب سے قتل 9 پنجابی مسافروں کی نعشیں  آبائی علاقوں کو روانہ

بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے شناخت کر کے قتل کیے جانے والے 9 پنجابی مسافروں کی نعشیں بلوچستان پنجاب سرحد پر وصول کر کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

کمشنر ڈی جی خان اشفاق احمد کے مطابق ضلع ژوب میں بسوں سے اتار کر بے دردی سے شہید کیے جانے والوں کی میتوں کو ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے کمانڈنٹ اسد چانڈیہ کے ساتھ وصول کیا جس کے بعد میتوں کو ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کردیا گیا ہے۔ شہید کیے جانے والوں کا تعلق، لاہور، گجرات، خانیوال، گوجرانولہ، لودھراں، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ سے ہے۔

انتظامیہ نے بتایا کہ 2 بھائی جابر اور عثمان کا تعلق لودھراں کی تحصیل دنیاپور سے تھا، دونوں بھائی اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے بلوچستان سے آ رہے تھے، ان کو گھر کی خواتین اور بچوں کے سامنے بس سے اتارا اور پہاڑوں پر لے جا کر قتل کردیا، اب ایک گھر سے تین جنازے ایک ساتھ اٹھیں گے۔

محمد عرفان کا تعلق ڈی جی خان، صابر گوجرانوالہ، محمد آصف مظفرگڑھ اور غلام سعید کا تعلق خانیوال سے تھا، محمد جنید کا تعلق لاہور، محمد بلال کا اٹک اور بلاول کا تعلق گجرات سے تھا۔

صابر بلوچستان میں پکوان سینٹر پر کام کرتا تھا، وہ گھر کا واحد کفیل اور 15 سال سے بلوچستان میں کام کر رہا تھا جب کہ صابر کے 4 بچے ہیں اور بڑے بیٹے کی عمر 14 سال ہے، مقتولین میں گوجرانوالہ کا صابر بھی شامل ہے جو واہنڈو کے علاقے صائب کا رہائشی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق ڈیرہ غازی خان بارڈر ملٹری پولیس لاشوں کو آبائی علاقے تک پہنچائے گی۔

واضح رہے کہ 10 اور 11 جولائی کی درمیانی شب فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی دو مسافر بسوں میں سوار کم از کم 9 مسافروں کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد اغوا کیا اور پھر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

اس حملے کی ذمہ داری فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی، تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے موسیٰ خیل مکھتر اور خجوری کے درمیان شاہراہ کو بند کرنے کے بعد ان 9 مسافروں کو قتل کیا۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کوئٹہ سے پنجاب آنے والی بس پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی اور بے گناہ مسافروں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

Advertisement