Advertisement

برطانیہ فلسطین کو مشروط طور پر ریاست تسلیم کرنے پر راضی، ستمبر میں فیصلہ متوقع

وزیراعظم اسٹارمر نے کہا کہ ستمبر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل فلسطینی ریاست کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے گا

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 29th 2025, 11:15 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
برطانیہ فلسطین کو مشروط طور پر ریاست تسلیم کرنے پر راضی، ستمبر میں فیصلہ متوقع

 

برطانیہ فلسطین کو مشروط طور پر بطور ریاست تسلیم کرنے پر راضی ہوگیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر غزہ کی صورتحال میں تبدیلی نہ آئی تو برطانیہ ستمبر میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی، مغربی کنارے پر تسلط کا خاتمہ اور دو ریاستی حل کے لیے رضامند نہ ہوا، تو برطانیہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

غزہ میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں 18 ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم اسٹارمر نے کہا کہ ستمبر میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل فلسطینی ریاست کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی برابری نہیں ہے اور برطانیہ حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حماس کو جنگ بندی پر راضی ہونا چاہیے اور غزہ میں حکومت میں کوئی کردار ادا نہ کرنے پر آمادہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ فلسطینی عوام نے ناقابلِ بیان تکالیف برداشت کی ہیں، اور اب غزہ میں خوراک کی کمی کے ساتھ بھوکے بچوں کی حالت نے پورے عالمی ضمیر کو جگا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تکلیفیں اب ختم ہونی چاہئیں۔

وزیراعظم اسٹارمر نے کہا کہ ستمبر میں اسرائیل کے غزہ میں جنگ روکنے، انسانی امداد کی رسائی ممکن بنانے اور دو ریاستی حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کرنے کی صورت میں برطانیہ فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر لے گا۔

Advertisement