Advertisement
پاکستان

 باجوڑ میں ریاست کی خوارج سے بات چیت یا سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،سیکیورٹی ذرائع

خوارج باجوڑ میں آبادی کے درمیان رہ کر دہشت گردانہ اور مجرمانہ کاررائیوں میں ملوث ہیں،جن کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے،ذرائع

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 8th 2025, 2:38 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 باجوڑ میں ریاست کی خوارج سے بات چیت یا سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،سیکیورٹی ذرائع

اسلام آباد: سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ باجوڑ میں ریاست کی خوارج سے بات چیت یا سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ باجوڑ میں قبائل اور خارجیوں کے بارے میں بات چیت میں جان بوجھ کر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، زمینی حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ خوارج باجوڑ میں آبادی کے درمیان رہ کر دہشت گردانہ اور مجرمانہ کاررائیوں میں ملوث ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت بشمول وزیراعلیٰ اور سکیورٹی حکام نے وہاں کے قبائل کے سامنے تین نکات رکھے ہیں۔

جن میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ ان خارجیوں کو جن کی زیادہ تعداد افغانیوں پر مشتمل ہے، ان کو باہر نکالیں۔

 دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر قبائل خوارجین کو خود نہیں نکال سکتے تو ایک یا دو دن کے لیے علاقہ خالی کردیں تاکہ سیکیورٹی فورسز ان خوارجین کو اُن کے انجام تک پہنچا سکیں۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر یہ دونوں کام نہیں کیے جاسکتے تو حتی الامکان حد تک نقصان سے بچا جائے کیونکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہر صورت جاری رہے گی۔

سیکیورٹی ذرائع نےدو ٹوک الفاظ میں کہتے ہوئے واضح کیا کہ خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ حکومتی سطح پر کوئی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک کہ وہ ریاست کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم نہ کردیں۔

ذرائع نے بتایا کہ قبائلی جرگہ ایک منطقی قدم ہے تاکہ کارروائی سے پہلے حتی الامکان حد تک عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ، کسی بھی طرح کی مسلح کارروائی کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔

 جاری شدہ قبائلی جرگہ ایک منطقی قدم ہے تاکہ کارروائی سے پہلے حتی الامکان حد تک عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے تاہم اسلام اور ریاست کے دشمن خوارج کے ساتھ کمپرومائز کرنے کی نہ دین اجازت دیتا ہے نہ ریاست اور نہ خیبرپختونخوا کے بہادر عوام کی اقدار ہی اجازت دیتی ہیں۔

Advertisement