Advertisement
پاکستان

پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کاپارٹی پالیسی کیخلاف جا کر 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ

اس سے قبل خبر آئی تھی کہ پارٹی کا 2 سینیٹرز سے رابطہ منقطع ہے، سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور سینیٹر فیصل سلیم سے پارٹی کا رابطہ نہیں ہو پا رہا،ذرائع

GNN Web Desk
شائع شدہ 9 months ago پر Nov 10th 2025, 5:20 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کاپارٹی پالیسی کیخلاف جا کر 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیف اللہ ابڑو نے پارٹی پالیسی کے خلاف جاتے ہوئے27ویںآئینی ترمیم کے حق میں ووٹ کاسٹ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں 27 ویں ترمیم کے معاملے پر سینیٹ کا اجلاس جاری ہے،جس میں پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پارٹی پالیسی اور ہدایات کے خلاف جاتے ہوئے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔

خیا ل رہے کہ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ پارٹی کا سندھ اور خیبر پختونخوا  سے تعلق رکھنے والے 2 سینیٹرز سے رابطہ منقطع ہے، سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور سینیٹر فیصل سلیم سے پارٹی کا رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

ذرائع کے مطابق سیف اللہ ابڑو نے بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر قائمہ کمیٹیوں سے استعفے بھی نہیں دیا تھا،جبکہ سینیٹر فیصل سلیم الرحمان 26ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی پارٹی سے رابطے میں نہیں رہے تھے۔

دوسری جانب دوران اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کی جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کا بل شامل ہے۔

اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مسودے میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں، آئینی ترمیم تھی کہ آئینی عدالت قائم کی جائے، کمیٹی نے آئینی کورٹ بنانے کو متفقہ طور پر منظور کیا تاہم کچھ ترامیم کیں۔

انہوں نےمزید کہا کہ آئینی ترامیم میں تمام صوبوں کی کورٹ شامل ہیں، ہائیکورٹ کا بھی آئینی کورٹ میں حصہ ہو گا، ہائیکورٹ کا جج آئینی عدالت کے لیے نامزد ہوگاجس کےلیے کمیٹی نےکہا ہے اس کی اہلیت 7کی بجائے 5سال ہوگی۔

فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار تھا ، ازخود نوٹس کے لیے تجویزکیا ہےکہ آئینی عدالت تب اس پرکام کرےگی جب کوئی اس کے لیے درخواست دے۔

Advertisement
Advertisement