Advertisement

ٹی بی کا مرض پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے طبی، سماجی و معاشی چیلنج بنا ہوا ہے،وزیراعظم

بنیادی صحت مراکز میں ٹی بی کی خدمات کو مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں علاج کی مسلسل فراہمی ممکن ہو سکے،شہباز شریف

GNN Web Desk
شائع شدہ 7 ماہ قبل پر مارچ 24 2026، 1:07 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
ٹی بی کا مرض پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے طبی، سماجی و معاشی چیلنج بنا ہوا ہے،وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ تپ دق (ٹی بی) دورِ حاضر میں متعدی امراض میں سرِفہرست ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے ایک سنگین طبی، سماجی اور معاشی چیلنج بن چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی یومِ تپ دق کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ مرض خاص طور پر کمزور طبقات کو متاثر کرتا ہے اور غربت، غذائی قلت اور عدم مساوات اس کے اثرات کو مزید بڑھاتے ہیں۔

بیان میں انہوں نے کہا کہ ہر سال عالمی سطح پر ٹی بی کا دن اس بیماری سے متعلق آگاہی اور اس کے خاتمے کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس قابلِ علاج اور قابلِ بچاؤ مرض کے مکمل خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹی بی کے مکمل خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون، تکنیکی شراکت داری اور مستقل عالمی فنڈنگ ناگزیر ہے۔

جاری بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ٹی بی کے خاتمے کو صحت عامہ کی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت جلد تشخیص، معیاری علاج تک رسائی، بیماری کی روک تھام اور مریضوں کی نگہداشت کو یقینی بنایا جا رہا ہے،جس کا مقصد کے لیے جدید تشخیصی سہولیات کو وسعت دی جا رہی ہے، لیبارٹری نیٹ ورک کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ بنیادی صحت مراکز میں ٹی بی کی خدمات کو مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں علاج کی مسلسل فراہمی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی بی کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی شمولیت نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سماجی بدنامی کے خاتمے، بروقت تشخیص کی حوصلہ افزائی اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، سول سوسائٹی، محققین اور نجی طبی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 

وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں، حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں، جامعات، نجی شعبے، میڈیا اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ کوئی بھی مریض نظرانداز نہ ہو۔

Advertisement