یو اے ای کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان
اوپیک اور اوپیک پلس تیل کی پیداوار اور قیمتوں کا تعین کرتے ہیں اور اندازے کے مطابق یہ دنیا کے تقریباً 40 سے 50 فیصد تیل کی پیداوار کو کنٹرول کرتے ہیں


ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات(یو اے ای) نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔
اماراتی خبر ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس فیصلے کے عالمی تیل مارکیٹ پر بھی فیصلے کے اثرات متوقع ہیں۔ حکام کا کہنا ہےکہ متحدہ عرب امارات تیل کی فروخت کی پالیسی میں خود مختاری حاصل کرےگا۔
رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے یہ فیصلہ اچانک نہیں کیا بلکہ کافی عرصے سے اس کی تیاریاں جاری تھیں، کیونکہ پیداوار کی حد کے معاملے پر اس کے سعودی عرب کے ساتھ اختلافات بڑھ رہے تھے۔آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق اوپیک پلس معاہدےکے تحت امارات کی پیداوار تقریباً 30 لاکھ بیرل یومیہ تک محدود تھی، جب کہ اس کی اصل صلاحیت 40 لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ ہے اور امارات 2027 تک پیداوار 50 لاکھ بیرل یومیہ تک لے جانا چاہتا ہے۔
خام تیل کی عالمی منڈی کے حوالے سے معروف امریکی نیوز ویب سائٹ آئل پرائس ڈاٹ کام کے مطابق اوپیک کے تیسرے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک کی جانب سے تنظیم سے علیحدگی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تیل کی عالمی منڈی پہلے ہی غیر مستحکم ہے۔ایران جنگ اپنے نویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے، جب کہ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ قلیل مدت میں اس کا اثر اتنا بڑا نہیں ہوگا کیونکہ آبنائے ہرمز کے بحران کی وجہ سے فی الحال بہت سی پیداوار ویسے ہی رکی ہوئی ہے اور امارات جتنا تیل نکال سکتا ہے، اتنا برآمد نہیں کر سکتا، لیکن طویل مدت میں اس کے اثرات بہت اہم ہوسکتے ہیں۔اس سے قبل قطر، ایکواڈور، انڈونیشیا اور انگولا بھی اوپیک سے نکل چکے ہیں تاہم امارات جیسے بڑے اور پرانے رکن کا الگ ہونا اہمیت رکھتا ہے۔
خیال رہےکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا قیام 1960 میں عمل میں آیا تھا، سعودی عرب، ایران، عراق اور کویت اوپیک کے اہم رکن ہیں۔ اوپیک پلس کا قیام 2016 میں عمل آیا تھا جب اوپیک ممالک اور نان اوپیک ممالک میں اتحاد ہوا، اس میں روس سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔
اوپیک اور اوپیک پلس تیل کی پیداوار اور قیمتوں کا تعین کرتے ہیں اور اندازے کے مطابق یہ دنیا کے تقریباً 40 سے 50 فیصد تیل کی پیداوار کو کنٹرول کرتے ہیں۔
یو اے ای کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتِ حال نے عالمی توانائی کی منڈی کو شدید متاثر کیا ہوا ہے اور عالمی معیشت غیر یقینی کا شکار ہے۔

ایران تنازع امریکا کیلئے نئی سردجنگ بن گیا، امریکی نیوز ویب سائٹ
- 11 گھنٹے قبل

بریانی کے بعد تربوز کھانے سے میاں، بیوی سمیت پورا خاندان جاں بحق
- 15 گھنٹے قبل

جوڈیشل کمیشن اجلاس: اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری
- 12 گھنٹے قبل

پی آئی اے کی نجکاری،عارف حبیب کنسورشیم نے 100 فیصد شیئرز حاصل کر لیے
- 14 گھنٹے قبل

اسحا ق ڈار کا انتونیو گوتریس سے ٹیلیفونک رابطہ،،پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف، مکمل حمایت کا اعادہ
- 11 گھنٹے قبل

شہریوں کیلئے اچھی خبر،نیپرا نے سولر صارفین کو بڑا ریلیف دینے کا اعلان کردیا
- 11 گھنٹے قبل

معرکہء حق کے ہیرو لیفٹیننٹ کرنل محمد شاہذیب رفیع، تمغہء بسالت کی شاندار جنگی کارکردگی کی داستان
- 16 گھنٹے قبل

پاک فوج کی چمن سیکٹر میں بھرپور جوابی کارروائی، افغان طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ
- 16 گھنٹے قبل

آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح II میزائل کا کامیاب تجربہ،آئی ایس پی آر
- 15 گھنٹے قبل

ایران کا اپنی دفاعی وعسکری صلاحیتیں ایشیائی ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کا اعلان
- 16 گھنٹے قبل

حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی،شہبازشریف
- 16 گھنٹے قبل

ایران کو کسی قیمت پر نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، ڈیل نہیں ہوئی تو دباؤ برقرار رکھیں گے، روبیو
- 13 گھنٹے قبل










