پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر، امریکا میں ملازمت کا خواب کیسے پورا ہوگا؟ ویزا کی تمام شرائط جان لیں
امریکا میں کام کرنے کے لیے کون سا ورک ویزا درکار ہے، کون اہل ہے، کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی اور درخواست کا مکمل طریقہ کیا ہے؟


ویب ڈیسک: امریکا دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں بہتر روزگار، پیشہ ورانہ ترقی اور ڈالر میں تنخواہ حاصل کرنے کے مواقع کے باعث ہر سال لاکھوں افراد ملازمت کے لیے جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ امریکی ڈالر کی قدر پاکستان سمیت بیشتر ممالک کی کرنسی کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی بیرون ملک ملازمت کے خواہش مند افراد امریکا کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم امریکا میں کام کرنے کے لیے صرف ملازمت ملنا کافی نہیں، بلکہ مناسب ورک ویزا، مقررہ شرائط اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
امریکا میں ملازمت کے خواہش مند افراد کے لیے مختلف اقسام کے ورک ویزا موجود ہیں اور ہر ویزا مخصوص ملازمت، قابلیت اور قیام کی مدت کے مطابق جاری کیا جاتا ہے لہٰذا اگر کوئی شخص امریکا میں کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہاں ایک ہی قسم کا ورک ویزا نہیں بلکہ مختلف زمروں کے ویزے دستیاب ہیں۔ کچھ ویزے عارضی ملازمت کے لیے ہوتے ہیں جبکہ بعض مستقل رہائش اور مستقبل میں گرین کارڈ حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔
عارضی اور مستقل ورک ویزا میں فرق
عارضی ورک ویزا ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو ایک مقررہ مدت کے لیے امریکا میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس ویزے کی مدت ختم ہونے پر متعلقہ شخص کو امریکا چھوڑنا ہوتا ہے، جب تک کہ اسے قیام میں توسیع یا اپنی امیگریشن حیثیت تبدیل کرنے کی اجازت نہ مل جائے۔ اس کے برعکس مستقل ورک ویزا ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو امریکا میں مستقل طور پر رہائش اور ملازمت اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ اگر اس ویزا سے متعلق امیگریشن کارروائی مکمل ہو جائے تو درخواست گزار امریکا میں مستقل رہائشی بن سکتا ہے اور اسے گرین کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔
عارضی ورک ویزا کے لیے کون اہل ہے؟
امریکا میں عارضی ورک ویزا کی 11 مختلف اقسام موجود ہیں، جن میں ہر ویزا مخصوص پیشے یا شعبے کے لیے مختص ہے۔ ایچ-1 بی ویزا ایسے پیشہ ور افراد کے لیے ہے جو خصوصی مہارت والے شعبوں میں کام کرتے ہیں اور عموماً ان کے پاس کم از کم بیچلر ڈگری یا اس کے مساوی تجربہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔
ایچ-2 اے ویزا عارضی یا موسمی زرعی مزدوروں کے لیے جبکہ ایچ-2 بی ویزا عارضی یا موسمی غیر زرعی کارکنوں کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔
ایچ-3 ویزا ایسے افراد کے لیے ہے جو ایسی عملی تربیت حاصل کرنا چاہتے ہوں جو ان کے اپنے ملک میں دستیاب نہ ہو۔
ایل- ویزا ان ملازمین کے لیے مخصوص ہے جنہیں ایک ہی کمپنی اپنی بیرون ملک شاخ سے امریکا کے دفتر میں انتظامی، ایگزیکٹو یا خصوصی مہارت والے عہدے پر منتقل کرتی ہے۔ اس ویزا کے لیے درخواست گزار کا گزشتہ تین برس کے دوران کم از کم ایک سال اسی کمپنی کے ساتھ بیرون ملک کام کرنا ضروری ہے۔
او- ویزا سائنس، فنون، تعلیم، کاروبار یا کھیل کے شعبوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرنے والے افراد کے لیے ہے، جبکہ پی۔ویزا کھلاڑیوں، فنکاروں اور تفریحی شعبے سے وابستہ افراد کو پرفارمنس، مقابلوں یا ثقافتی پروگراموں میں شرکت کے لیے دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کیو-1 ویزا بین الاقوامی ثقافتی تبادلے کے پروگراموں میں حصہ لینے والوں کے لیے مخصوص ہے۔
کیا ملازمت کی پیشکش ضروری ہے؟
زیادہ تر عارضی ورک ویزا کے لیے امریکی آجر کی جانب سے اسپانسرشپ ضروری ہوتی ہے۔ آجر کو امریکی شہریت و امیگریشن سروسز میں درخواست جمع کرانا ہوتی ہے۔ اس درخواست کی منظوری کے بعد ہی متعلقہ شخص ویزے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ بعض ویزا اقسام میں آجر کو پہلے امریکی محکمہ محنت سے لیبر سرٹیفکیشن بھی حاصل کرنا پڑتی ہے۔
کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی؟
ویزا انٹرویو سے پہلے درخواست گزار کو چند اہم دستاویزات تیار رکھنا ضروری ہیں۔ ان میں کم از کم مجوزہ قیام سے 6 ماہ زائد مدت تک کارآمد پاسپورٹ، ڈی ایس-160 فارم کی تصدیقی رسید، ویزا فیس کی ادائیگی کا ثبوت اگر لاگو ہو، پاسپورٹ سائز تصویر اگر آن لائن اپ لوڈ ممکن نہ ہو، فارم آئی-129 کی رسید یا یو ایس سی آئی ایس کی منظوری کا نوٹس فارم آئی-797 شامل ہیں۔
اگر درخواست ایل بلینکٹ پٹیشن کے تحت ہو تو فارم آئی-129 ایس بھی درکار ہوگا۔ سفارت خانہ یا قونصل خانہ ہر کیس کے مطابق اضافی دستاویزات بھی طلب کر سکتا ہے۔
درخواست دینے کا طریقہ کیا ہے؟
درخواست کا طریقہ کار کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے آجر یو ایس سی آئی ایس میں مطلوبہ درخواست جمع کراتا ہے۔ منظوری کے بعد درخواست گزار آن لائن ڈی ایس-160 فارم مکمل کرتا ہے، متعلقہ فیس ادا کرتا ہے، ویزا انٹرویو کا وقت لیتا ہے، تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ انٹرویو میں شرکت کرتا ہے اور جہاں ضرورت ہو وہاں بایومیٹرک فنگر پرنٹس بھی جمع کراتا ہے۔ اس کے بعد ویزا سے متعلق حتمی فیصلے کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔
عام طور پر غیر امیگرنٹ ورک ویزا کی درخواست کی بنیادی فیس 205 امریکی ڈالر ہوتی ہے، تاہم بعض درخواست گزاروں کو اس کے علاوہ بھی اضافی فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
کیا اہل خانہ بھی ساتھ جا سکتے ہیں؟
امریکا جانے والے ورک ویزا ہولڈر کے شریک حیات اور غیر شادی شدہ کم عمر بچے بھی عموماً اسی ویزا کی بنیاد پر اس کے ساتھ یا بعد میں امریکا جا سکتے ہیں۔ تاہم کیو-1 کلچرل ایکسچینج ویزا اس حوالے سے ایک اہم استثنا ہے۔ درخواست گزار کو یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ امریکا میں اپنے اہل خانہ کے اخراجات برداشت کرنے کی مالی صلاحیت رکھتا ہے۔
ویزا ملنے کے بعد بھی داخلہ یقینی نہیں
ماہرین کے مطابق ویزا جاری ہونے کے باوجود امریکا میں داخلے کی حتمی اجازت ہوائی اڈے یا دیگر داخلی مقامات پر تعینات امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے افسران دیتے ہیں، جو تمام دستاویزات اور قواعد کا جائزہ لینے کے بعد داخلے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
مستقل ورک ویزا کیسے مختلف ہے؟
مستقل ورک ویزا ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو امریکا میں مستقل طور پر رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ روزگار کی بنیاد پر امیگرنٹ ویزا کی پانچ مختلف اقسام موجود ہیں، جن میں ای بی-2 اور ای بی-3 نمایاں ہیں۔ یہ ویزے اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھنے والے پیشہ ور افراد، ہنر مند کارکنوں اور دیگر اہل ملازمین کے لیے مخصوص ہیں۔ ان ویزا اقسام کے ذریعے مستقبل میں گرین کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
کیا ورک ویزا مسترد بھی ہو سکتا ہے؟
امریکی امیگریشن قوانین کے مطابق یو ایس سی آئی ایس کی جانب سے پٹیشن کی منظوری ملنے کے باوجود ویزا جاری ہونا یقینی نہیں ہوتا۔ اگر مطلوبہ دستاویزات نامکمل ہوں، درخواست گزار متعلقہ ویزا کی شرائط پوری نہ کرتا ہو، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرے یا امریکی قانون کے تحت نااہل قرار دیا جائے تو ویزا درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔
چونکہ امریکی ورک ویزا سے متعلق قوانین، فیس، شرائط اور مختلف ویزا کیٹیگریز وقتاً فوقتاً تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے درخواست دینے سے پہلے تمام تر اور تازہ ترین معلومات کے لیے امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے اور امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) کی سرکاری ویب سائٹ سے ضرور رجوع کریں تاکہ درست اور موجودہ ضوابط کے مطابق درخواست دی جا سکے۔

سونا خریدنے والوں کے لیے بڑی خبر، قیمت میں اچانک کمی
- a day ago
عمران ہاشمی کا نیا گیت "مجبوریاں" ریلیز
- a day ago
بالی وڈ کےلیجنڈ اداکار کے اداکار بیٹے کا اچانک انتقال
- 4 hours ago

سابق قومی کرکٹر کے گھر افسوسناک حادثہ، 10 ماہ کی بیٹی زندگی کی بازی ہار گئی
- a day ago
آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: تمام 13 حلقوں کے نتائج مکمل، ن لیگ کو 9 نشستوں کیساتھ برتری، پیپلزپارٹی کا دوسرا نمبر
- a day ago
نورین نیازی کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، وجہ سامنے آگئی
- a day ago

چھانگا مانگا میں مبینہ زہریلا کھانا کھانے سے 2 بہنیں جاں بحق، والدین کی حالت تشویشناک
- an hour ago

لندن کی تقریب میں پاکستانی اداکارہ چھا گئیں، تصاویر اور ویڈیوز وائرل
- a day ago

الخدمت فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام فلسطینی طلبہ کی گریجویشن تقریب، 38 نوجوانوں نے ڈینٹل سرجری کی ڈگریاں حاصل کر لیں
- a day ago
حکومت نے 4 سالہ حج پالیسی پیش کردی، فی کس پیکج کتنے کا ہو گا؟
- 5 hours ago

اہم ملک کی طرف سے ویزا فری انٹری کا اعلان، کیا پاکستان شامل؟
- 3 hours ago

رونالڈو نے ہالی ووڈ کا رخ کر لیا، فٹبال ڈرامہ سیریز میں اداکاری کریں گے
- 3 hours ago

