وزیر خزانہ نے قومی اقتصادی سروے پیش کر دیا، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے،معاشی ترقی3.7 فیصد رہی
زرعی شعبے میں گروتھ کا ہدف 4.5 فیصد کی بجائے ترقی کی شرح 2.8 فیصد رہی، فصلوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 2.4 فیصد رہی ہے،رپورٹ


اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پورے سال کی مالی کارکردگی پر مبنی اقتصادی سروے جاری کر دیا جس کے مطابق کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے۔جبکہ ملکی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی۔
تفصیلات کے مطابق قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی جب کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، معاشی ترقی کی شرح نمو3.7فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901ڈالر ہوگئی۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔
انہوں نے مزیدکہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاوئنٹ 72 ملین ڈالر مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصدرہی، ڈیری اورلائیو سٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصدحصہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی ، فوڈ ،ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا، سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوا، کھاد کی طلب میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9 فیصد رہی۔
وزیر خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی، ایف بی آر کے محصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ 2 سال میں بتدریج کمی ہوئی، مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، اوورسیز پاکستانیوں کے شکرگزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی ادائیگی کیلئے ترسیلات زر بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، چاول اور چینی کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی، ٹیکسٹائل کے شعبے کا برآمدات میں کلیدی کردار ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا ہوا فٹ بال استعمال ہوگا، سپورٹس کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد ہیں،جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، فری لانسرز کا حصہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے، مینو فیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں میں بہتری آئی، مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد رہ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 252 ملین ڈالر رہ گیا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء کیا گیا، ٹیکس محصولات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا، وزیراعظم برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
گزشتہ مالی سال کی قومی اقتصادی سروے رپورٹ
قومی اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے میں گروتھ کا ہدف 4.5 فیصد کی بجائے ترقی کی شرح 2.8 فیصد رہی، فصلوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 2.4 فیصد رہی ہے، لائیو سٹاک کیلئے ترقی کا ہدف 4.2 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 3.7 فیصد ہے۔
اسی طرح جنگلات کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا، شرح نمو2 فیصد ہے، ماہی گیری کیلئے ترقی کا ہدف3 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 1.6 فیصد رہی، صنعت کیلئے ترقی کا ہدف 4.3 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 3.5 فیصد رہی۔جبکہ معدنیات کیلئے ترقی کا ہدف 3 فیصد تھا جبکہ اس کی شرح نمو 0.38 فیصد ہے، پیداواری شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 4.7 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6.6 فیصد رہی، بڑی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔
سروے رپورٹ کے مطابق چھوٹی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 8.9 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 8.5 فیصد رہی، بجلی گیس اور واٹر سپلائی کی نمو کا ہدف 3.5 تھا لیکن گروتھ منفی ریکارڈ ہوئی، بجلی گیس و واٹر سپلائی میں 10 فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔
اسی طرح تعمیرات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 3.8 فیصد جبکہ ترقی کی شرح 5.7 فیصد رہی ہے، خدمات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 4.09 فیصد ریکارڈ ہوئی، ہول سیل و ریٹیل کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3.9 فیصد تھا اور شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔
جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3.4 فیصد کی نابت 2.3 فیصد تک ریکارڈ ہوئی، ہوٹل انڈسٹری و فوڈ کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4.1 فیصد جبکہ شرح نمو 3.9 فیصد رہی، معلومات اور مواصلات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 5 فیصد کی نسبت 7.5 فیصد رہی ہے۔
علاوہ ازاں سروے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انشورنس اور مالیاتی شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 5 فیصد جبکہ گروتھ محض صفر 0.32 فیصد رہی، رئیل سٹیٹ سیکٹر میں ترقی کا ہدف4.2 فیصد جبکہ شرح نمو 3.6 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے، شعبہ تعلیم میں شرح نمو 4.5 فیصد کی نسبت ترقی کی شرح 5.2 فیصد رہی ہے۔
جبکہ سماجی شعبے کیلئے ترقی کی شرح 4 فیصد کی مسبت شرح نمو 6.8 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے، نجی شعبے کے لیے ترقی کی شرح 4.5 فیصد مقرر کی گئی تھی جبکہ شرح نمو 3.6 فیصد رہی، اہم فصلوں کیلئے گروتھ منفی 4.5 فیصد کی نسبت شرح نمو 0.65 فیصد رہی ہے۔
اسی طرح گندم کی پیداوار 4.3 فیصد اضافے سے 2 کروڑ 96 لاکھ 5 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے، چاول کی پیداوار 2.8 فیصد بڑھ کر 99 لاکھ 98 ہزار ٹن ریکارڈ ہوئی، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا، پیداوار 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن رہی ہے۔
مکئی کی پیداوار 2.68 فیصد کمی سے 87 لاکھ 94 ہزار ٹن رہی، کپاس کی پیداوار 0.5 فیصد کمی کیساتھ پیداوار 70 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں رہی ہے، چنے کی پیداوار میں غیر معمولی 50.4 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسی طرح ملک میں آلو کی پیداوار 27.6 فیصد جبکہ کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی ہے، آم، ہلدی اور مرچ کی پیداوار میں بالترتیب 11.6، 25.1 اور 9.2 فیصد اضافہ ہوا، لائیو سٹاک شعبہ 3.75 فیصد بڑھا، پیداوار میں 3.46 فیصد اضافہ معاون ثابت ہوا۔
مکئی کی پیداوار 8.8 ملین ٹن جبکہ آلو پیداوار 389 ہزار ٹن رہی، سبزیوں کی پیداوار میں 12.6 فیصداضافہ ہوا سبزیوں کی پیداوار 403 ہزار ٹن رہی، پھلوں کی پیداوار میں 2.8 فیصداضافہ کیساتھ پیداوار 444 ہزار ٹن رہی، مالی سال 2025-26 کے دوران لائیو اسٹاک میں 3.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سروے رپورٹ کےمطابق ملک میں بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ اور گائے بیل کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ ریکارڈ ہوئی، دنبے اور بھیڑ کی 3 کروڑ 35 لاکھ جبکہ بکری اور بکرے 9 کروڑ 18 لاکھ ریکارڈ ہوئی۔
اکنامک سروے کے مطابق اونٹ کی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار جبکہ گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک ہے، رواں مالی سال کے دوران گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک ریکارڈ ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ قومی اقتصادی سروے کے مطابق کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہیں ہو سکے ہیں، قومی اقتصادی سروے باضابطہ طور پر آج جاری کیا جائے گا۔

صومالی قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی شہریوں کی رہائی کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، دفتر خارجہ
- ایک گھنٹہ قبل

قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی
- ایک دن قبل

وفاقی حکومت کا بجٹ اجلاس 12 جون سے منظوری تک بلا تعطل جاری رکھنے کا فیصلہ
- 20 گھنٹے قبل

اقوام متحدہ نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی
- ایک گھنٹہ قبل

مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ
- 2 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
مظفرآباد میں پاک فوج کا Mi-17 ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید
- ایک دن قبل

اسلام آباد کے نجی اسپتالوں میں علاج کے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی، مصطفیٰ کمال
- ایک دن قبل

فیڈرل کانسٹیبلری پر بزدلانہ حملہ ناکام ،8 خارجی جہنم واصل ، جوابی کارروائی میں6 اہلکار شہید
- ایک دن قبل

روزگارکے مواقع، برآمدات، معاشی بہتری اورپیداواری صلاحیت بڑھانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،وزیراعظم
- 20 گھنٹے قبل

وزیراعظم سے وزیر خزانہ کی ملاقات،اکنامک سروے آف پاکستان 26-2025ء پیش کر دیا
- ایک گھنٹہ قبل

ٹرمپ نے ایران کے پُلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے پر غور شروع کردیا،امریکی میڈیا
- ایک دن قبل

مری: سیاحوں کی وین میں ٹریفک حادثے کے بعد آگ بھڑک اٹھی،10 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی
- ایک دن قبل



.jpg&w=3840&q=75)

.jpg&w=3840&q=75)





