مینگو ڈپلومیسی سے معاشی سفارتکاری تک،جکارتا میں ایک ملاقات اور پاکستان کے نرم تشخص کی کہانی
کامیاب تصورات کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ جب ایک خیال کامیاب ہوتا ہے تو لوگ اسے اپنانا شروع کر دیتے ہیں،عصمت بلوچ


جکارتا کی دوپہر بھی ایسی ہی تھی۔ ہوا میں نمی تھی، سڑکوں پر معمول کی مصروفیت تھی اور جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا شہر اپنی پوری توانائی کے ساتھ سانس لے رہا تھا۔ لیکن اس دن ہماری منزل جکارتا کی کوئی بلند عمارت، کوئی کاروباری مرکز یا کوئی سیاحتی مقام نہیں تھا۔ ہم پاکستان کے سفارت خانے جا رہے تھے، جہاں پاکستان کے سفیر جناب زاہد حفیظ چوہدری سے ملاقات طے تھی۔
میرے ساتھ میرے استاد اور رہنما عارف انیس موجود تھے، جبکہ ملک حسن اعوان اور ملک عابد الحسن بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ بظاہر یہ ایک رسمی سفارتی ملاقات تھی، لیکن گفتگو شروع ہوئی تو محسوس ہوا کہ ہم صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات پر بات نہیں کر رہے بلکہ ایک ایسے پاکستان کی تصویر پر گفتگو کر رہے ہیں جسے آنے والے برسوں میں دنیا کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔
سفارت خانے کی دیواروں کے اندر ہونے والی اس گفتگو کا محور تجارت بھی تھا، سرمایہ کاری بھی، سیاحت بھی اور عوامی سفارتکاری بھی۔ لیکن ایک موضوع بار بار گفتگو میں لوٹ کر آ رہا تھا، اور وہ تھا پاکستان کا نرم تشخص۔ وہ پاکستان جسے صرف خبروں اور سرکاری بیانات سے نہیں بلکہ ثقافت، خوراک، کاروبار، سیاحت اور لوگوں کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔
اسی گفتگو کے دوران "لٹل پاکستان" کے تصور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ یہ محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک وژن ہے۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں پاکستان کی ثقافت، پاکستانی کھانے، پاکستانی مصنوعات، کاروباری مواقع اور پاکستانی کمیونٹی ایک جگہ اکٹھی ہو کر دنیا کو پاکستان کا ایک مختلف اور مثبت رخ دکھا سکے۔ ابتدائی مرحلے میں اس منصوبے کو انڈونیشیا اور ملائیشیا کے ساتھ جوڑنے کی تجویز زیر بحث آئی، جبکہ مستقبل میں ویتنام، تھائی لینڈ اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک کو بھی اس کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
گفتگو کے دوران اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صرف ترسیلاتِ زر بھیجنے والے افراد نہیں بلکہ پاکستان کے غیر رسمی سفیر بھی ہیں۔ ایک ایسے پلیٹ فارم کے قیام پر تبادلۂ خیال ہوا جو ملائیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام اور دیگر ممالک میں موجود پاکستانی کاروباری شخصیات، پروفیشنلز، طلبہ اور کمیونٹی رہنماؤں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکے۔
اس مجوزہ اوورسیز ڈائسپورا نیٹ ورک کا مقصد نہ صرف پاکستانی کمیونٹی کو منظم کرنا ہے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم اور ثقافتی روابط کے نئے دروازے کھولنا بھی ہے۔ خیال یہ ہے کہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی اپنی صلاحیتوں اور روابط کے ذریعے پاکستان کے مثبت تشخص اور معاشی ترقی میں ایک فعال کردار ادا کریں۔
زاہد حفیظ چوہدری کی گفتگو سن کر احساس ہوتا ہے کہ وہ سفارتکاری کو صرف سیاسی ملاقاتوں اور سرکاری تقریبات تک محدود نہیں سمجھتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے سفارتی سفر کا ایک نمایاں باب "مینگو ڈپلومیسی" کے نام سے جانا جاتا ہے۔
پاکستانی آم دنیا کے بہترین آموں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ایک وقت تھا جب یہ صرف ایک زرعی پیداوار سمجھے جاتے تھے۔ زاہد حفیظ چوہدری اور ان جیسے سفارتکاروں نے اس پھل کو ایک قومی علامت میں تبدیل کر دیا۔ برطانیہ اور بعد ازاں آسٹریلیا میں پاکستانی آم کو ایک ثقافتی سفیر کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ مینگو فیسٹیولز منعقد ہوئے، ہزاروں افراد شریک ہوئے، پاکستانی ثقافت متعارف ہوئی اور پاکستان کا ایک نرم، مثبت اور خوش رنگ چہرہ دنیا کے سامنے آیا۔
وقت گزرتا گیا اور ایک دن ایسا آیا جب یہ فیسٹیولز کمیونٹی کی ملکیت بن گئے۔ مقامی اداروں نے انہیں رجسٹر کروایا، نجی سطح پر ان کی سرپرستی شروع ہوئی اور وہ ایک مستقل روایت بن گئے۔ آج آسٹریلیا میں پاکستانی آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ پاکستان کی شناخت کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کامیاب تصورات کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ جب ایک خیال کامیاب ہوتا ہے تو لوگ اسے اپنانا شروع کر دیتے ہیں۔ مینگو فیسٹیول کی کامیابی نے دیگر جنوبی ایشیائی کمیونٹیز کو بھی متاثر کیا اور اس ماڈل کی نقل مختلف شکلوں میں سامنے آنے لگی۔ یہ دراصل ایک سفارتی کامیابی تھی جو کسی معاہدے سے نہیں بلکہ ثقافت اور لوگوں کے ذریعے حاصل ہوئی۔
آج یہی سوچ انڈونیشیا میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
تقریباً انتیس کروڑ آبادی والا انڈونیشیا صرف جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت نہیں بلکہ امکانات کی ایک وسیع دنیا ہے۔ پام آئل سے لے کر حلال انڈسٹری تک، سیاحت سے لے کر ڈیجیٹل اکانومی تک، دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے بے شمار دروازے موجود ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ صرف ایک دوست ملک نہیں بلکہ ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں آنے والے برسوں میں بڑی معاشی شراکت داری جنم لے سکتی ہے۔
جکارتا میں ہونے والی اس ملاقات سے واپسی پر میرے ذہن میں ایک سوال بار بار آ رہا تھا۔
کیا سفارتکاری صرف سفارت خانوں کے کمروں میں لکھی جاتی ہے؟
شاید نہیں۔
بعض اوقات سفارتکاری ایک آم سے شروع ہوتی ہے، ایک فیسٹیول تک پہنچتی ہے، پھر ایک کاروباری منصوبے میں بدلتی ہے، پھر اوورسیز پاکستانیوں کے ایک عالمی نیٹ ورک کی صورت اختیار کرتی ہے، اور آخرکار قوموں کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کا پل بن جاتی ہے۔
شاید یہی مینگو ڈپلومیسی کا اصل سبق ہے۔
اور شاید یہی پاکستان کی آنے والی معاشی سفارتکاری کا راستہ بھی ہے۔
ازقلم: عصمت بلوچ
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے اور تحقیق پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیارہو گئی، راجا ناصر عباس
- ایک دن قبل

لاہور ہائیکورٹ کی این سی سی آئی اےکو محمد رضوان کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت
- ایک دن قبل
امریکی ایف 16 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، حادثہ کہاں پیش آیا؟
- 6 گھنٹے قبل

بلوچستان میں مسلح افراد کا مند کے کسٹمز اسٹیشن پر حملہ، دفتر کو آگ لگادی، سپاہی زخمی
- 9 گھنٹے قبل

ساڑھے سترہ لاکھ سے زائد افراد فیول ریلیف سکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، شزہ فاطمہ
- 3 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت مزید کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 دن قبل

مسلح افواج دہشتگردی کو شکست دینے اور ملک میں پائیدار امن و استحکام یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر
- 12 گھنٹے قبل

ایشین گیمز: پاکستان کبڈی اور ہاکی ٹیموں نے دوسری کامیابی اپنے نام کر لی
- 11 گھنٹے قبل
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی کا رجحان جاری
- 9 گھنٹے قبل

اسٹیج اور ٹی وی کے سینئر فنکار آصف اقبال منوں مٹی تلے جا سوئے
- ایک دن قبل
کے پی اور پاک افغان سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 37 دہشتگرد جہنم واصل
- ایک دن قبل

علیمہ خان کے بعد عمران خان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی نظربند
- ایک دن قبل





