اسلام آباد:ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کیس میں غیر ملکی فرم براڈ شیٹ کو لینے کے دینے پڑ گئے، براڈشیٹ نے تقریبا 45 لاکھ روپے شریف فیملی کو ادا کئے۔

تفصیلا ت کے مطابق شریف فیملی کے وکلا نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کیس میں غیر ملکی فرم براڈ شیٹ کی جانب سے رقم وصولی کی تصدیق کی ہے،براڈشیٹ نے تقریبا 45 لاکھ روپے شریف فیملی کو ادا کئے اور براڈ شیٹ نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کو اٹیچ کرنے کی درخواست واپس لینے پراخرجات ادا کئے ہیں۔
کوئن کونسل کے مطابق رقم ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اٹیچ کرنےکی درخواست عدالت سے واپس لینے پرلیگل فیس کے اخراجات کی مد میں اداکی اور براڈ شیٹ نے شریف فیملی کو 20 ہزار پاؤنڈ ادا کیے۔
براڈ شیٹ کیس کیا ہے اور نیب معاہدہ :
1999 میں جنرل پرویز مشرف نے کرپٹ سیاستدانوں کے احتساب کے لیے قومی احتساب بیورو نیب قائم کیا ۔لہذا کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی پہلی مرتبہ سال 2000 میں نیب کے لیے کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ نیب نے برطانوی رجسٹرڈ براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی سراغ رساں کمپنی کے ساتھ مبینہ ناجائز طور پر کمائی گئی دولت کے ذریعے خریدے گئے غیرملکی اثاثوں کا پتہ لگانے کے لئے معاہدہ کیا اور 200اہداف کے نام براڈ شیٹ کو فراہم کیے گئے ۔سال 2000 میں نیب کے معاہدے میں یہ قرار دیا گیا کہ کمپنی جو بھی اثاثے برآمد کرے گی اس کا 20 فیصد حصہ کمپنی کو ملے گا اور بقیہ نیب کے پاس جائے گا۔اس معاہدے میں براڈشیٹ کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ نیب کی جگہ اثاثے ضبط کرنے کے لیے ضروری قانونی کارروائی یا قانونی چارہ جوئی کی کارروائی شروع کر سکتی تھی۔نیب اور براڈشیٹ نے ایک بینک اکاؤنٹ کھولنے پر بھی اتفاق کیا تھا جس کو نیب اور کمپنی کو مشترکہ طور پر کنٹرول کرنا تھا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ برآمد ہونے والی تمام اثاثوں کی رقم کو اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔
2003 میں پاکستان حکومت نے یہ کہہ کر یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کر دیا کہ فرم کی جانب سے کوئی قابل عمل اطلاعات فراہم نہیں کی گئیں۔تاہم فرم کا موقف تھا کہ اس نے لسٹ میں شامل افراد کے اثاثوں کے حوالے سے قابل ذکر معلومات فراہم کی ہیں تاہم نیب نے ان افراد سے اس معلومات کی بنا پر ڈیل کر لی ہے۔
اسی دعوے کی بنیاد پر براڈ شیٹ ایل ایل سی نے حکومت پاکستان اور نیب کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں جرمانے کا دعویٰ کر دیا۔ 2003میں معاہدے کی منسوخی پر کمپنی نے واجب الادا 2کروڑ 20لاکھ ڈالر کی وصولی کے لئے لندن ہائی کورٹ میں نیب کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس کے ساتھ 4ہزار 758ڈالر یومیہ کا اس پر سود بھی لگایا گیا تھا۔
20 مئی 2008 میں براڈ شیٹ کیساتھ سیٹلمنٹ، 1.5 ملین ڈالرز کی ادائیگی ہوئی،2009 میں معلوم ہوا کہ ادائیگی ایسے شخص کو کی گئی جس کا تعلق اس کمپنی سے نہیں تھا ۔ 2009سے 2016 تک یہ مقدمہ چلتا رہا ، براڈشیٹ کےساتھ جنوری2016 میں لائیبلٹی کا کیس شروع ہوا،ہائیکورٹ فیصلے پر حکومت پاکستان نے جولائی 2019 کو اپیل فائل کی ، اس کا فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد جولائی 2019 میں پاکستان نے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کی مگر فیصلہ تبدیل نہیں ہوا ۔ 31 دسمبر 2020 کو ثالثی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے براڈ شیٹ کو 2کروڑ 87لاکھ ڈالرزجرمانہ ادا کیا۔

پرنس رحیم الحسینی آغا خان کا گلگت بلتستان اور چترال کا تین روزہ دورہ مکمل کر واپس روانہ
- 3 دن قبل
امام مسجد نبوی کا مسلمانوں کے مابین اتحاد کے فروغ پر زور
- 2 دن قبل

سوات ایکسپریس وے پر وین کی مسافر بس کو ٹکر، 16 افراد جاں بحق، 7 زخمی
- 3 دن قبل
پاکستان،چین دوستی کو آئندہ نسلوں کیلئے مزید مضبوط بنانا ہو گا،وزیراعظم
- 2 دن قبل

وزیر اعظم کی صدر شی سے ملاقات،دونوں ممالک نےایک ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی،چینی صدر
- 3 دن قبل

آبنائے ہرمز سے مزید تیل اور ایل این جی بردار جہاز گزر کر پاکستان اور چین کو روانہ
- 3 دن قبل

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وجذبے سے منائی جا رہی ہے
- 13 گھنٹے قبل

فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی کیخلاف بلوچستان کی سیاسی قیادت متحد، کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت
- 3 دن قبل

اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو وہ ایک بہترین معاہدہ ہوگا ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی،ٹرمپ
- 3 دن قبل
قوم کل عیدالاضحی مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 2 دن قبل

رواں سال عید الاالضحیٰ پر تین لالی وڈ فلمیں سینما گھروں کی زینت بنیں گی
- 3 دن قبل

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے غیر رسمی ملاقات
- 3 دن قبل



