کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں رات گئے زلزلے نے تباہی مچادی ، زلزلے کے باعث 24 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔


تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 3 بجکر 2 منٹ پر آیا۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.9 اور گہرائی 15 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی تھا ، مختلف علاقوں میں آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔زلزلے کے جھٹکے پشین، ہرنائی، سبی، زیارت، قلعہ سیف اللہ، لورالائی اور مسلم باغ سمیت صوبے بھر میں محسوس کیے گئے۔ ہرنائی اور شاہرگ میں 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ درجنوں افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے ۔
ہلاکتوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے ، تاحال امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ کوئٹہ، ۔ہرنائی اور اس کے گرد و نواح میں نقصانات کی اطلاع کے پیش نظر ہسپتال میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا ہے ۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق زلزلے کے باعث متاثرہ علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ وزیر داخلہ بلوچستان ضیالانگو کے مطابق شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔ زلزلے کے بعد ایف سی، لیویز اور پولیس بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ ہرنائی میں تمام امدادی کارروائیاں اور انخلا کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل، مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ ٹیموں کو ہائی الرٹ اور موبلائز کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل، مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ ٹیموں کو ہائی الرٹ اور موبلائز کردیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خون ، ہنگامی امداد، ہیلی کاپٹر اور دیگر تمام اشیا کا بندو بست کرلیا گیا ہے اور تمام محکمے اس سلسلے میں کام کررہے ہیں۔
Blood, Ambulances, emergency assistance, Heli and rest all things are placed.... All departments are Woking on it
— Jam Kamal Khan (@jam_kamal) October 7, 2021
یاد رہے کہ نومبر2020 میں بھی کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا تھا جس کے باعث عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
اس سے قبل سال 2017 میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر، پسنی مکران میں 6.3 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 4 دن قبل

ملک میں سونا مزید سستا ہو گیا
- 2 دن قبل

علی ظفر کی عالمی میڈیا میں بھرپور پذیرائی
- 2 دن قبل

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- ایک دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 2 دن قبل
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- ایک دن قبل
پاکستان میں نیا شناختی کارڈ متعارف
- 2 دن قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 4 دن قبل
عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق کی ہدایت پر 6.4 ارب روپے دینے سے انکار
- ایک دن قبل
الخدمت کیطرف سے اجتماعی شادی کی تقریب، 60 گھر آباد ہوں گے
- 2 دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 4 دن قبل
نوجوانوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری سے جوڑنے کا عملی قدم
- 9 گھنٹے قبل


