Advertisement
ٹیکنالوجی

امریکا میں5 جنوری سے فائیو جی وائرلیس سروس کا آغاز

امریکا میں 5 جنوری سے فائیو جی وائرلیس سروس کا آغاز کیا جارہا ہے  لیکن ماہرین  کو خدشہ ہے کہ فائیوجی نیٹ ورک کا جلدی میں آغاز کسی سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Dec 30th 2021, 12:54 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
امریکا میں5 جنوری سے فائیو جی وائرلیس سروس کا آغاز

امریکا میں فائیو جی وائرلیس نظام کا نفاذ دنیا بھر میں موجود ائیر لائنز کو مشکل میں ڈال سکتا ہے کیونکہ  فائیو جی سی بینڈ اسپیکٹرم  کی فریکوئنسی پر کام کرے گا جو کہ دنیا بھر کی ائیرلائنز کو الاٹ شدہ محفوظ اسپیکٹرم سے صرف ایک درجے بعد کی فریکوئنسی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے اگر ائیر لائنز کو الاٹ شدہ محفوظ اسپیکٹرم تبدیل نہ کیا گیا تو خدشہ ہے فائیو جی اسپیکٹرم کے باعث نہ صرف پروازیں تاخیر کا شکا رہوں گی  کئی پروازوں کو راستہ بدلنا ڑے گا یا منسوخ بھی ہوسکتی ہیں۔  
یادرہے امریکا میں فائیو جی اسپیکٹرم 3.7 گیگا ہرٹرز سے لے کر 3.98 گیگا ہرٹز کی فریکوئنسی پر آپریٹ ہوگی جبکہ انٹرنیشنل ایوی ایشن  کو الاٹ شدہ محفوظ فریکوئنسی 4.2 گیگا ہرٹز ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی طیاروں کی حساس الیکٹرونک تنصیبات کے فنکشنز یا کمیونیکشنز کو متاثر کرسکتی ہے۔  کسی بھی ناخوشگوار حادثے یا عوام کو مشکلات  سے بچنے کے لئے  فائیو جی کو فوری لانچ نہ کیا جائے۔ یونائٹڈ ائیر لائنز ک چیف ایگزیکٹو اسکاٹ کربی  کے مطابق فائیو جی سروسز کے لانچ سے ہزاروں مسافر متاثر ہوسکتے ہیں۔

Advertisement