پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرسیاسی گرماگرمی ، لیگی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنوں میں ہاتھا پائی
اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ڈی چوک پر شاہد خاقان عباسی ،مصدق ملک سمیت لیگی رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کی آمد ، اپوزیشن کیخلاف نعرے بازی اور شورشرابہ کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی ۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے کہ اس دوران پی ٹی آئی کے کارکنان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے وہاں پہنچ گئے اور مسلم لیگ ن کے خلاف نعرے بازی کی اور پی ٹی آئی کارکنان نے لیگی اراکین اسمبلی کو گھیرے میں لے لیا ۔پی ٹی آئی کارکنوں اور ن لیگی رہنماؤں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور نوبت ہاتھا پائی تک آپہنچی ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما مصدق ملک اور کارکنوں کو ایک دوسرے کو دھکے دئیے گئے۔ پی ٹی آئی والوں نے مریم اورنگزیب کو گھیرے میں لےلیا جبکہ شاہدخاقان نے پی ٹی آئی کارکن کوتھپڑ جڑدئیے ۔ سیکورٹی اہلکاروں نے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سمیت رہنماؤں کو گھیرے میں لےلیا۔
قومی اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) والے صرف بدمعاشی کر سکتے ہیں ۔ ہم اسمبلی کے اندر اور باہر ان کا مقابلہ کریں گے ، ان کو اخلاقی تربیت کی ضرورت نہیں ان کا لیڈر ایسا ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے اپنا مینڈیٹ دے دیا ہے اور اب وزیر اعظم کے پاس اکثریت ہے نہ بات کرسکتے ہیں۔ حکومت غیر قانونی اجلاس بلا کر چوری کیساتھ اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کررہی ہے۔ رات گئے اندھیرے میں نوٹی فکیشن جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ وزیراعظم آرٹیک 91 کی شق 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ لے گا، آرٹیکل 91 کی شق 7 یہ کہتی ہے کہ جب صدر کو یقین ہو جائے گا کہ وزیراعظم اعتماد کھو چکے تو وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے گا،آج کے وزیراعظم کے پاس اکثریت نہیں صرف بدمعاشی کر سکتا ہے ہم یہ سارا تماشا دیکھ رہے ہیں ۔ صدر، وزیراعظم اور اسپیکر غیر قانونی اور غیر آئینی اجلاس بلانے میں ملوث ہیں اور عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ، ہم ان غنڈوں کا مقابلہ کریں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ ملک کا صدر بتائے کہ اس نے عمران خان کے کان یا ٹیلی فون میں کہا کہ تمھاری اکثریت ختم ہو چکی ہے ، انھوں نے کس قانون کے تحت یہ غیر قانونی اجلاس بلایا ہے جنھوں نے ملک کو لوٹا اس سے آج عوام سوال کر رہی ہے، کوئی وزیراعظم خود اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکتا، آئین کے تحت جب صدر مطمئن ہو جائے تو وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کرتا ہے ۔

وزیراعظم سے سری لنکن صدر کا رابطہ، ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کی درخواست
- 3 hours ago

پنجاب حکومت کی کاوشوں سے لاہور کی خوشیاں دوبارہ لوٹ آئیں،گلوکارہ میگھا
- 9 hours ago

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی
- 9 hours ago

بھارتی کوسٹ گارڈ نے اسمگلنگ کے الزام میں تین آئل ٹینکروں کو تحویل میں لے لیا
- 6 hours ago

انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجیکل منظر نامے کو بدل دے گا، وزیر اعظم
- 6 hours ago

اوپن اے آئی کی جانب سے اے آئی پر مبنی ائیر بڈز متعارف کرانے کی تیاری،رپورٹ
- 5 hours ago
لیبیا کے قریب تارکین وطن کی ایک اورکشتی ڈوب گئی، دو بچوں سمیت 53 افراد لاپتا
- 7 hours ago

بھارت براہ راست جنگ کی جرات نہیں کر سکتا، افغانستان کے ذریعے پراکسی وار لڑ رہا ہے، وزیر دفاع
- 3 hours ago

ملتان سلطانز 2 ارب 45 کروڑ میں نیلام ،فرنچائز کا نیا نام راولپنڈی ہوگا
- 5 hours ago

دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی اور جنریشن زی کا جنون
- 4 hours ago

وزیراعظم شہباز شریف کا موڈیز کی جانب سے بینکنگ شعبے کی ریٹنگ مستحکم قرار دیے جانے پر اطمینان کا اظہار
- 3 hours ago

بھیک مانگنا اب ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہےاس کے پیچھے طاقتور مافیا سرگرم ہے،خواجہ آصف
- 10 hours ago



.jpg&w=3840&q=75)
.jpg&w=3840&q=75)





