اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیا ، عمران خان ملکی تاریخ میں دوسرے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے قومی اسمبلی سے 'رضاکارانہ' اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان کی کارروائی کا آغاز کیا جس کے بعد شاہ محمود قریشی نے اسپیکر کی اجازت سے وزیراعظم پر اعتماد کے حوالے سے قرارداد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ ‘یہ ایوان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد بحال کرتی ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 91 کی شق (7) کے تحت ضروری ہے‘۔
342 کے ایوان میں وزیراعظم نے 178 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کر لی ہے ۔ اگست 2018 میں عمران خان نے 176 ووٹ لیے تھے۔ا راکین اسمبلی نے خوشی میں نعرے لگائے ۔ اراکین نے وزیراعظم کو مبارکباد دی ۔ اس سے قبل ایوان میں قرارداد کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے سے متعلق طریقہ کار بتایا، اسپیکر کی ہدایت کے بعد ایوان میں پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائیں گئیں۔ووٹنگ کے دوران ایوان کے تمام داخلی دروازے بند کر دیئے گئے۔ وزیراعظم کے حق میں ووٹ دینے والے دائیں جانب لابی میں گئے۔ عمران خان نے بھی اپنا ووٹ درج کروایا۔ حکومتی ارکان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن نشستوں پر نوٹوں کے ہار رکھے۔ مہمانوں کی گیلری میں بڑی تعداد میں اہم شخصیات موجود تھی جن میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ بھی شامل تھے۔
فیصل واوڈا مستعفی ہونے اور اسپیکر قومی اسمبلی صدارت کے باعث ووٹ نہیں ڈال سکے ۔ دوسری جانب اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے .
قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے طلب کیے گئے اس اجلاس کا مقصد پاکستان کے آئین کے آریٹکل 91 کی ذیلی شق سات کے تحت وزیراعظم سے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہنا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق صدر اس شق کے تحت صرف اسی صورت میں وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کو کہہ سکتا ہے جب اسے یقین ہو کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے اراکین کا اعتماد حاصل نہیں رہا۔
وزیراعظم عمران خان نے پارٹی اراکین کو ہدایت کی تھی کہ ارکان کی ذمہ داری ہے کہ اعتماد کے ووٹ کو کامیاب کرائیں جبکہ انہوں نے بطور پارٹی چیئرمین پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کو خط بھی لکھ دیا ہے۔ آج پارٹی کا جو رکن غیر حاضر رہا اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63کے تحت ایکشن لیا جا سکتا ہے، عدم حاضری کی صورت میں رکن کے خلاف نااہلی کی کارروائی شروع کی جائے گی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ سینیٹ کے انتخابات کے دوران اسلام آباد کی نشست پر حکومتی رکن کی شکست کے بعد کیا ۔ بدھ کے روز ہونے والے سینیٹ انتخابات میں میں قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی عددی اکثریت کے باوجود متحدہ اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی تھی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل میاں نواز شریف نے 1993 میں سپریم کورٹ سے بحالی کے بعد ایوان سے رضاکارانہ اعتماد کا ووٹ لیا تھا ۔
یاد رہے کہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی وزیراعظم کی جانب سے اس طرح کا قدم اٹھایا گیا ہے ۔ اس سے قبل قانون کے تحت ہر وزیراعظم کو اپنے منتخب ہونے کے 30 دن کے اندر اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا ضروری تھی اورماضی میں بے نظیر بھٹو، نواز شریف اوردیگر وزرائے اعظم کو اپنے انتخاب کے بعد یہ ووٹ لینا پڑا تھا۔

بغیر تصدیق شدہ یا جعلی دستاویزات پر بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،محسن نقوی
- 13 گھنٹے قبل

لاہور میں دوسری انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ کے مقابلے پورے جوش و جذبے سے جاری
- 19 گھنٹے قبل

طالبان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے، آئی ایس پی آر
- 19 گھنٹے قبل
دو دن استحکام کے بعدسونا آج ہزاروں روپے مہنگا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 19 گھنٹے قبل

پاکستان کرکٹ بورڈنے پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کیلئے بڈنگ فیس مقرر کر دی
- 17 گھنٹے قبل

پاکستان سہ ملکی سریز کا فاتح بن گیا،فائنل میں سری لنکا کو6 وکٹو ں سے شکست
- 12 گھنٹے قبل

پاکستا ن میں سجا پہلا عالمی مقابلہ حسن قرأت،فاتح کون رہا اور کتنے لاکھ کا انعام جیتا؟
- 18 گھنٹے قبل

آئی سی آر سی اور میڈیا ان لیمیٹڈ کے اشتراک سے صحافیوں کے لیے دو روزہ 'ہیومینیٹیرین رپورٹنگ' ورکشاپ کا انعقاد
- 11 گھنٹے قبل

خطے میں قیام امن کیلئے افغانستان میں امن ضروری ہے، طالبان سے بات چیت کرنے کوتیار ہیں،اسحاق ڈار
- 15 گھنٹے قبل

فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم اور نسل کشی جیسے اقدامات کی جوابدہی ضروری ہے،شہبازشریف
- 19 گھنٹے قبل

سہ ملکی سیریزفائنل: سری لنکا کا پاکستان کو جیت کے لیے 115 رنز کا ہدف
- 16 گھنٹے قبل
کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈینگی کے مزید 232 کیسزرپورٹ
- 13 گھنٹے قبل








