Advertisement
پاکستان

طویل المدت منصوبہ بندی سے ملک ترقی کرتےہیں : وزیراعظم

اسلام آباد: زیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ طویل المدتی منصوبوں سے ملک ترقی کرتا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jan 5th 2022, 4:54 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
طویل المدت منصوبہ بندی سے ملک ترقی کرتےہیں : وزیراعظم

تفصیلات کے مطابق  ہکلہ ۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان موٹروے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں این ایچ اے کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے  کہا کہ وزارت مواصلات کی کارکردگی سب سے نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک طویل المدتی منصوبوں سے بنتے ہیں، چین آج اس لیے کامیاب ہے کہ انہوں نے 30 سال کی منصوبہ بندی کی ہے، جب آپ اس منصوبہ بندی کے مطابق چلتے ہیں تو ملک ترقی کرتا ہے۔

وزیراعظم  کا کہنا تھا کہ سارے ترقی پذیر ممالک کا یہ مسئلہ ہے کہ ایک دو علاقوں میں زیادہ منصوبے بنائے جاتے ہیں باقی علاقے پیچھے رہ جاتے ہیں، 1960 میں پاکستان کی طویل دورانیہ منصوبہ بندی تھی، اس دوران پاکستان کے بڑے بڑے منصوبے بنے۔

وزیر اعظم نے ہکلہ ۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان موٹروے منصوبے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ ان علاقوں سے مل رہا ہے جو پیچھے رہ گئے، لوگ انہیں بھول گئے ہیں، لوگ میانوالی سے پیسے بناتے ہیں اور لاہور کی طرف آجاتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا سکے، اس وجہ سے ان علاقوں کے ہسپتال پسماندہ ہوگئے ہیں اور یہاں تعلیم کا نظام نیچے چلا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے شمالی روٹ کی وجہ سے بے شمار فوائد ہوں گے، جس سے نہ صرف ان علاقوں کے سفر کا دورانیہ کم ہوگا بلکہ اس سے یہ علاقہ ترقی بھی کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے یاد ہے مجھے میانوالی کے لوگ کہتے تھے کہ ہمیں علاج کے لیے اسلام آباد کے ہسپتال جانا پڑتا ہے تب تک کئی مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں، جس کے حل کے لیے ہم نے ہیلتھ کارڈ نکالا ہے۔  اس ہیلتھ کارڈ سے 10 لاکھ روپے تک کا مفت علاج کروایا جاسکے گا اور اس ہیلتھ سسٹم کے ذریعے نجی شعبہ میانوالی جیسے علاقوں میں ہسپتال بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، میں 25 سال سے پاکستان سے کرپشن ختم کرنے لگا ہوا ہو، اس کی ایک مثال این ایچ اے ہے۔

واضح رہے کہ یہ منصوبہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مغربی روٹ کا اہم جزو ہے ۔ 293 کلومیٹر طویل اس موٹروے پر 11 انٹرچینجز،36 پل، 33فلائی اوورز اور119 انڈر پاسز تعمیر کیے گئے ہیں۔

اس موٹروے کی تکمیل سے ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی پنجاب،جنوبی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کاروباری مرکز کے طور پر ابھریں گےاور ان علاقوں کی زرعی اجناس کی بڑی منڈیوں تک ترسیل بہت آسان ہوجائے گی۔ 

Advertisement
Advertisement