لاہور:مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔


تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کو ظہرانے پر مدعو کیا،بلاول بھٹو اور آصف زراری اپوزیشن لیڈر کی رہائش گاہ لاہور ماڈل ٹاؤن پہنچے جہاں شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔
شہباز شریف کی معاونت کے لیے مریم نواز، حمزہ شہباز، سعد رفیق، مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں جبکہ بلاول اور زرداری کے ہمراہ حسن مرتضی اور رخسانہ بنگش موجود تھیں۔
دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان احتجاجی لانگ مارچ کا انضمام کرنے اور حکومت مخالف لائحہ عمل سے متعلق اہم گفتگو پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ورکنگ ریلیشن بڑھانے کے ساتھ ساتھ دونوں جماعتوں نے اختلافات بھلا کر آگے چلنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت کے بہت سے لوگ ہمارے سے رابطے میں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا مطالبہ کیا تاہم ن لیگ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حتمی فیصلہ نواز شریف کریں گے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے تجویر دی کہ عمران کو گھر بھیجنے کا بہترین راستہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے ، سینیٹ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں ایک ساتھ تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں مشاورت کے لیے وقت دیں آپ کی تجویز قابل عمل ہے ، تسلیم کرتا ہوں کہ تحریک عدم اعتماد پر (ن) لیگ آپس میں متحد نہیں تھی تاہم تحریک عدم اعتماد پر ٹیلی فونز کال چلیں تو کیا کریں گے۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے جواب دیا گیا کہ تحریک عدم اعتماد حکومت ہٹانے کی آئینی کوشش ہے ، اگر آئینی کوشش ناکام ہوئی تو لانگ مارچ اور استعفوں پر ایک ساتھ موقف بنائیں گے۔
جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ مجھے نواز شریف کو اعتماد میں لینے کا وقت دیں،ملاقات کے دوران مریم نواز زیادہ تر خاموش رہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ پیپلز پارٹی کی تجویز پر عمل کیا جاتا تو عمران خان آج اقتدار میں نہ ہوتے۔

وزیراعظم کی بشکیک میں عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
- 3 دن قبل

پاکستان نے اگلے سال کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی
- 3 دن قبل
بلوچستان میں متعدد کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کے 21 دہشت گرد ہلاک
- 3 دن قبل
راولپنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالہ لئی بپھر گیا، فوج طلب، تعلیمی اداروں میں تعطیل
- 3 دن قبل
نیپال میں سیلاب کی تباہ کاریاں: ٹنل سے 9 روز بعد 2 افرادکو زندہ نکال لیا گیا
- 10 گھنٹے قبل
آئمہ بیگ کا انسٹا گرام اسٹیٹس اچانک نظروں میں آگیا،علیحدگی کی افواہیں
- 9 گھنٹے قبل
پنجاب اسمبلی میں 16سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرپابندی کی قرارداد منظور
- 3 دن قبل
میجر جنرل فیصل نصیر نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کا قومی کوآرڈینیٹر مقرر کردیا گیا
- 3 گھنٹے قبل

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون نئے مرحلے میں داخل ہو گیا: طاہر اشرفی
- 6 گھنٹے قبل

پاکستان نے نارووال میں ہندو مندر بارے بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد، سیاسی مقاصد پر مبنی دعووں کو مسترد کر دیا
- 9 گھنٹے قبل

اسٹیج اداکار محمد صدیق المعروف عابد چارلی شدید علیل
- 4 دن قبل

ملیک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر ہزاروں روپے کا اضافہ
- 9 گھنٹے قبل



