Advertisement
تفریح

شہنشاہ غزل مہدی حسن کی آج 10ویں برسی 

لاہور: 40 سال تک دنیائے موسیقی پر راج کرنے والے شہنشاہ غزل مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے 10 برس بیت گئے ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Jun 13th 2022, 2:54 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
شہنشاہ غزل مہدی حسن کی آج 10ویں برسی 

 کلاسیکل موسیقی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے استاد مہدی حسن نے 18 جولائی 1927ء کو بھارتی ریاست راجھستان میں آنکھ کھولی، مہدی حسن کے والد کا نام عظیم خان تھا اور ان کا تعلق بھی موسیقی کی دنیا سے تھا۔

مہدی حسن کے والد اور چچا مہاراجہ بڑودہ کے دربار سے وابستہ تھے۔ انھوں نے انتہائی کم عمری میں مہدی حسن کو اس قابل کردیا کہ وہ مہاراجہ بڑودہ کے دربار میں اپنے فن کا مظاہرہ کر سکیں۔

 تقسیم کے بعد 1957ء میں کراچی میں ریڈیو پاکستان سے باقاعدہ گلوکاری کا آغاز کیا ۔ مہدی حسن نے 40سال تک فن موسیقی کے افق پر حکمرانی کی۔

1962 میں ریلیز ہونے والی فلم "فرنگی"میں گائی گئی غزل"گلوں میں رنگ بھرے" نے مہدی حسن کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ مہدی حسن کی مشہور غزلوں میں " اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا "، "رفتہ رفتہ"،" میں خیال ہوں کسی اور کا" اور " اب کے ہم بچھڑے" سمیت کئی دیگر غزلیں اور گیت شامل ہیں۔

مہدی حسن نے مجموعی طور پر 477 فلموں کے گانے گائے۔ ان کے گائے ہوئے گیتوں کی کُل تعداد 667 ہے ۔ کئی دہائیوں پر محیط اس سفر میں انھوں نے 25 ہزار سے زائد فلمی و غیر فلمی گیت نغموں اور غزلوں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔

مہدی حسن موسیقی کا ایک پورا عہد تھے۔ ان کے گائے راگ کو دنیا بھر میں پے پناہ شہرت ملی ۔ اسی وجہ سے مہدی حسن کو "شہنشاہ غزل" کے خطاب سے نواز گیا ۔ شعبہ موسیقی میں غیر معمولی خدمات پر مہدی حسن کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی تمغہ امتیاز،ہلال امتیاز جبکہ بھارت میں سہگل اور نیپال میں گورکھا دک شینا باہو ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مہدی حسن فالج، سینے اور سانس کی مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر طویل علالت کے بعد 13 جون 2012ء کو کراچی میں خالق حقیقی سے جا ملے ۔  دنیا سے رخصت ہونے جانے کے باوجود ان کی مدھر آواز کا جادوآج بھی  سر چڑھ کر بولتا ہے اور سننے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔

Advertisement
Advertisement