سری نگر : بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت یکطرفہ طور پرتبدیل کرنے کے 3 برس مکمل ہوگئے، وادی میں آج یوم سیاہ اور ہڑتال کی جائے گی۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستانی اور کشمیری آج یوم استحصال کشمیر منا رہے ہیں، مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں سیمینارز اور کانفرنسز کا اہتمام کیا جائے گا۔ مظفر آباد سمیت آزاد جموں وکشمیر اور پاکستان کے تمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں ایک منٹ کی خاموشی اور جلسے جلوسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
پوری قوم اپنے کشمیری بھائیوں کو یہ پیغام دے گی کہ پاکستانی عوام ان کےحق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد اور بھارتی افواج کے مظالم کے خلاف ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم جاری ہیں اور جمہوریت کے علمبردار ، انسانی اقدار کے چیمپئن عالمی ممالک کی مجرمانہ خاموشی تاحال قائم ہے جبکہ کشمیریوں کا جذبہ حریت بھی ہمیشہ کی طرح برقرار ہے ۔
کشمیریوں نے عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے میں مصروف ہے، دہلی سرکار کا قابل مذمت منصوبہ مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں “ڈی لیمٹیشن کمیشن” اور نئی حلقہ بندیاں بھارت کی اسی مذموم روش کا تسلسل ہیں۔
بھارت اب تک ب60 لاکھ سے زائد ہندوستانیوں کو کشمیر میں بسا کر وہاں کا ڈومیسائل جاری کر چکا ہے۔ بھارتی قابلِ مذمت کارستانیوں کے ڈاکومینٹری شواہد بھی شیئر کئے جا رہے ہیں۔
5 اگست 2019 کو مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کردیا تھا، اس قانون کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی تھی۔
بل کے مطابق ریاست لداخ اور جموں اینڈ سرینگر پر مشتمل ہوگی۔ دونوں علاقے مرکزی حکومت کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت ہونگے۔
آرٹیکل 370 کا خاتمہ صدارتی حکمنامے کے تحت کیا گیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اب مقبوضہ جموں و کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم ہو گئی ہے۔
اس آرٹیکل کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی حاصل تھی۔ اسی شق کے تحت بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے تھے۔

صوبائی حکومت نے کراچی سمیت سندھ کے تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کر دیا
- ایک گھنٹہ قبل

بنوں: امن کمیٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق
- 3 گھنٹے قبل

بیرون ملک جانے والے شہریوں کیلئے اچھی خبر،پاکستان اوریو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق
- 2 گھنٹے قبل

ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے عوام کو سہولیات کی فراہمی مزید سہل اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل میں تیزی لائی جائے،وزیراعظم
- 20 گھنٹے قبل

شہریوں کیلئے اچھی خبر، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
- 2 گھنٹے قبل

قومی سلامتی کے اُمور میں یکسوئی اور بیانیے پر اتفاقِ رائے وقت کی ضرورت ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 41 منٹ قبل
جاپان جنوبی پنجاب میں بچوں کی صحت کیلئے 18.62 ملین ڈالر گرانٹ دے گا،معاہد ے پر دستخط
- 3 گھنٹے قبل

جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما مولانا سلیم اللہ خان ترکئی انتقال کر گئے
- 2 گھنٹے قبل

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال
- 20 گھنٹے قبل

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 گھنٹے قبل

وزیراعظم کا نیووٹیک کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان، تکنیکی و فنی پروگرامز کے نئے اہداف کا تعین کرنے کی ہدایت
- ایک دن قبل

ٹرمپ کا معاشی حملہ ،ایران کیساتھ تجارت کرنیوالے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان
- 3 گھنٹے قبل









.jpg&w=3840&q=75)
