Advertisement
پاکستان

حکومت کو جہانگیر ترین سے کوئی خطرہ نہیں : شاہ محمود قریشی

ملتان : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین سے کوئی خطرہ نہیں ، اگر جہانگیر ترین کوکوئی تشویش ہے تو وزیراعظم عمران خان کا دروازہ کھلا ہے ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Apr 11th 2021, 3:48 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عمران خان کا ایک نظریہ ہے جس پر وہ قائم ہیں،  ممبران قومی و صوبائی اسمبلی عمران خان کے فیصلےکے پابند ہیں، آزاد ممبران نے بیان حلفی جمع کروایا اور اسمبلی میں تحریک انصاف کے بینچ پر بیٹھنا شروع کیا،  اگر جہانگیر ترین کو کچھ خدشات ہیں   تو  وہ وزیراعظم وزیراعظم  سے ملاقات کریں ان کا دروازہ کھلا ہے ۔ عمران خان کا انتقامی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ۔  17شوگر ملز کو نوٹس دیئےگئے اکیلی ترین صاحب کی مل نہیں ،  عدالتیں آزاد ہیں اپنامؤقف پیش کریں اگروہ صاف ہیں توبری ہوں گے ۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ ہمارے منشور کا فلسفہ ہے،  ہمار اکوئی ممبر کسی دوسری پارٹی میں نہیں جا رہا، میرا پیپلز پارٹی سے اختلاف ہوا تو میں نے اپنی سیٹ چھوڑی اور استعفیٰ دیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت کا  سب سے بڑا چیلنج  مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم ہر ہفتے بریفنگ لیتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے رمضان بازاروں کو سہولت بازارکی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آج حکومت کی جانب سے ملتان میں رمضان پیکج کے آغاز کا افتتاح کیا جارہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ یوٹیلٹی کارپوریشن شہریوں کو معیاری اشیاء فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا روپیہ اب مستحکم ہونا شروع ہوگیا ہے جس سے امپورٹڈ اشیاء کی قیمتوں پر بھی فرق پڑے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب کے اختیارات کو بحال کرتے ہوئے فنڈز کے لئے پہلی قسط 70 کروڑ جاری کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سال بجٹ میں جنوبی پنجاب کے منصوبے الگ ہوں گے اور جنوبی پنجاب کا بجٹ جنوبی پنجاب کےعلاوہ کہیں خرچ نہیں کیا جائیگا کیونکہ ماضی میں جنوبی پنجاب کیلئے رکھی گئی رقم دوسرے منصوبوں میں لگادی جاتی تھی۔ حکومت نے جنوبی پنجاب کے لئے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  وزیر اعظم نے کل لاہور میں جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی سے ملاقات کی ، 29مارچ کو اختیارات سلب کرنے والا نوٹی فیکشن  واپس لے لیا گیا ہے ، دسمبر 2020کا نوٹیفکیشن کابینہ نے منظور کر دیا جائیگا۔

Advertisement
Advertisement